ارنب گوسوامی کی ضمانتی عرضی رد ہونے پر عدالت عظمیٰ کے دخل پر محبوبہ مفتی کا سوال

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/12نومبر/سی این آئی// ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی ضمانتی عرضی کو رد کرنے پر عدالت عظمیٰ کی برہمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سوالیہ انداز میںپوچھا کہ جب بات کشمیریوں کی ہوتی ہے تو دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے؟۔ سی این آئی کے مطابق پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے حق آزادی پر برہمی ظاہر کرنے پر متفق ہوں لیکن جب بات کشمیریوں کی ہوتی ہے تو دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی ضمانتی عرضی کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے رد کرنے پر عدالت عظمیٰ کی برہمی کے رد عمل میں اپنے ایک ٹویٹ میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے لکھا ’’میں عدالت عظمیٰ کے حق آزادی پر برہمی ظاہر کرنے پر متفق ہوں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ برہمی یکطرفہ ہے کیونکہ سینکڑوں کشمیری اور صحافی بے بنیاد الزامات پر جیلوں میں بند ہیں۔ ان کی شنوائی تک نہیں ہوتی ہے عدالتی حکمناموں کی بات ہی نہیں ہے۔ ان کی آزادی کے لئے برہمی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جاتا ہے‘‘۔

Share This Article