جنگجو مخالف آپریشن کے دوران جنگجوئوں کی خود سپردگی خوش آئنداقدام؛ پولیس سربراہ

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/31اکتوبر: جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ جو نوجوان راستہ بھٹک چکے ہیں وہ اگر قومی دائرے میں آکر ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کا من بنالیں تو ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوئوں اور فوج کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے دوران مقامی جنگجوئوں کی جانب سے خود سپردگی ایک خو ش آئنداقدام ہے ہم اس کی حوصلہ افزائی کریں گے ۔ پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ جن نوجوانوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے وہ یہ راستہ چھوڑ دیں موصوف نے ان باتوں کااظہار زیون میں ’قومی یوم یکجہتی‘ کے موقعے پر منعقدہ ایک پروگرام کے دوران اپنے خطاب میں کیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے ہفتہ کے روز زیون پولیس لائن میں ’قومی یوم یکجہتی‘کے موقعے پر منعقد ہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کی جانب سے کھیل کود کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتا دیکھ میرا سینہ چوڑا ہوجاتا ہے کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے کسی غلط راستے پر چلیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے وہ اگر قومی دائرے میں واپس آئیں تو ہم ان کی بھر پور مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پولیس چیف نے کہا کہ فوج اور جنگجوئوں کے مابین جھڑپوں کے دوران مقامی نوجوانوں کی جانب سے خود سپردگی کرنا ایک خوش آئند اقدام ہے جس کی ہم حوصلہ افزائی کریں گے اور ان دیگر نوجوانوں کو بھی اس طرح بندوق چھوڑ کر اپنی عام زندگی گزارنے کی صلاح دی ہے ۔ اس دوران انہوں نے کولگام حملے میں بی جے پی کارکنوں کی ہلاکت میں ملوث عسکریت پسندوں کی نشاندہی ہونے کی بات بھی کی انہوںنے کہا کہ اس واقعے میں جو افراد ملوث ہے ان کی شناخت ہوگئی ہے اور ان کو پکڑنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں ۔کولگام میں بی جے پی کے تین کارکنوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے بارے میں پوچھے جانے پر دلباغ سنگھ نے کہاکولگام تحقیقات صحیح سمت میں چل رہی ہیں، جن ملٹینٹوں نے یہ کارروائی انجام دی تھی ان کی پہچان ہوئی ہے۔

Share This Article