ہندوستان میں زہریلی ہوا سے پورے سال میں ایک لاکھ بچوں کی موت۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/29اکتوبر: سال 2019 میں گھریلواورفضائی آلودگی کی وجہ سے 15 سال سے کم عمرکے تقریباً 6 لاکھ بچوں کی موت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں تقریباً 11000 بچوں کی موت صرف ہندوستان میں ہوئی۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیوایچ او) کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں سال 2016 میں گھریلواورفضائی آلودگی کی وجہ سے 15 سال سے کم عمرکے تقریباً 6 لاکھ بچوں کی موت ہوئی۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق سال 2016 میں گھریلواورفضائی آلودگی کی وجہ سے 15 سال سے کم عمرکے تقریباً 6 لاکھ بچوں کی موت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں تقریباً 11000 بچوں کی موت صرف ہندوستان میں ہوئی۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیوایچ او) کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں سال 2019 میں گھریلواورفضائی آلودگی کی وجہ سے 15 سال سے کم عمرکے تقریباً 6 لاکھ بچوں کی موت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں تقریباً 11000 بچوں کی موت صرف ہندوستان میں ہوئی۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے پیرکوجاری اپنی رپورٹ "فضائی آلودگی اور بچوں کی صحت” صاف ہوا کا نسخہ میں کہا کہ ہندوستان سمیت کم اوردرمیانی آمدنی والے ممالک میں پانچ سال سے کم عمرکے 98 فیصد بچے 2016 میں پی ایم سے پیدا ہوئی فضائی آلودگی کے شکارہوئے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھانا پکانے سے گھرکے اندرہونے والے فضائی آلودگی اورگھرکے باہرکے ایئرڈسپلے سے پوری دنیا میں ہندوستان جیسے کم اورمتوسط آمدنی والے ممالک کے بچوں میں صحت کوزبردست نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پرپوری دنیا کے 18 سال سے کم عمرکے 98 فیصد بچے ڈبلیو ایچ او فضائی معیارکے احکامات کی عام سطح سے اوپرکی سطح پرگھر سے باہر پی ایم 2.5 سے جدوجہد کررہے ہیں، ان میں پانچ سال کی عمرکے 63 کروڑ بچے اور 15 سال سے کم عمرکے 1.8 ارب بچے ہیں۔

Share This Article