کووڈ19مخالف پہلے سپرے ویکسین کو منظوری ؛چین نے پہلے نیجل اسپرے ٹیکہ کے تجربہ کا کام شروع کیا

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
FILE PHOTO: A woman holds a small bottle labeled with a "Vaccine COVID-19" sticker and a medical syringe in this illustration taken April 10, 2020. REUTERS/Dado Ruvic/Illustration/File Photo

سرینگر/12ستمبر: کورونا وائرس کے خلاف چین کی واحد نیجل اسپرے ویکسین کے پہلے مرحلے کا تجربہ نومبر میں شروع ہو سکتا ہے اور اس میں 100 شرکا کو شامل کیا جا سکتا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق چین نے نوول کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے پہلے نیجل اسپرے ٹیکہ کے تجربہ کو منظوری دے دی ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف چین کی واحد نیجل اسپرے ویکسین کے پہلے مرحلے کا تجربہ نومبر میں شروع ہو سکتا ہے اور اس میں 100 شرکا کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری گلوبل ٹائمس کی خبر کے مطابق، یہ اس طرح کا واحد ٹیکہ ہے جسے چین کے نیشنل میڈیکل پروڈکشن ایڈمنسٹریشن نے منظوری دی ہے۔یہ ٹیکہ ہانگ کانگ اور چین کے بیچ ایک اجتماعی مشن کے تحت تیار کیا جا رہا ہے جس میں یونیورسیٹی آف ہانگ کانگ، شیامن یونیورسیٹی اور بیجنگ ونتائی بائیولاجیکل فارمیسی کے تحقیق کار شامل ہیں۔ یونیورسیٹی آف ہانگ کانگ کے مائیکرو بائیولوجسٹ یو این کروک۔ ینگ نے کہا کہ یہ ٹیکہ نظام تنفس میں آنے والے وائرسوں کے نیچورل ٹرانزیشن روٹ کو امیونٹی سسٹم تیار کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیجل اسپرے کے توسط سے ٹیکہ لگانے سے انفلوئنزا اور نوول کورونا وائرس دونوں سے حفاظت مل سکتی ہے۔ یو این نے کہا کہ ٹیکہ کے تین طبی ٹرائل پوری طرح ختم ہونے میں ابھی کم سے کم ایک سال اور لگ جائے گا۔

Share This Article