دنیا بھر میں کورنا وائرس کی قہر سامانیاں ؛ 10 کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل سکتی ہے/عالمی بینک

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

مانیٹرنگ

سرینگر/22اگست: صحت کے عالمی حکام نے کہا ہے کہ یورپی ملکوں کو مکمل لاک ڈاؤن کیے بغیر کرونا (کورونا) وائرس کے کیسوں میں اضافے سے نمٹنے کے قابل ہونا پڑے گا۔ دوسری طرف عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ بحران 10 کروڑ لوگوں کو انتہائی غربت میں دھکیل سکتا ہے۔ کے پی ایس مانیٹرنگ کے مطابق فرانس، اٹلی، سپین اور جرمنی میں کرونا وائرس کے کیسوں میں پریشان کن اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبائی مرض دوبارہ براعظم میں پھیل رہا ہے۔ ایسا زیادہ تر سفر، گرمیوں کی چھٹیوں اور پارٹیوں کے انعقاد کی وجہ سے ہوا ہے۔ اٹلی میں کرونا وائرس کے 845 نئے کیس رجسٹر ہوئے جب کہ فرانس میں 4700 نئے مریض سامنے آئے جو ایک بڑا اضافہ ہے۔ سپین میں روزانہ مثبت آنے والے کیسوں کی تعداد فرانس سے بھی زیادہ ہے۔ جبکہ جرمنی کرونا کے کیس بڑھنے سے تشویش شکار ہے۔کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے باوجود عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے عہدے دار نے کہا ہے کہ اضافی لاک ڈاؤن ضروری نہیں ہونے چاہییں۔ڈبلیو ایچ او یورپی شاخ کے سربراہ ہانس کلوگ نے رپورٹروں کو بتایا: ‘ملک گیر بنیادی اقدامات اور مخصوص مقامات کے لیے اقدامات کر کے ہم وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔’انہوں نے مزید کہا کہ ہم وائرس کے مسئلے سے نمٹ سکتے اور معشیت اور تعلیمی نظام کو چلتا رکھ سکتے ہیں۔دوسری جانب عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ ملپاس نے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا 10 کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل سکتی ہے۔اس سے پہلے عالمی بینک کا اندازہ تھا کہ چھ کروڑ لوگ انتہائی غربت کا شکار ہو جائیں گے لیکن نئے اندازے کے مطابق یہ تعداد سات سے 10 کروڑ ہے۔ڈیوڈ ملپاس کا کہنا تھا کہ وبائی مرض کی صورت حال بگڑنے یا برقرار رہنے کی صورت میں، جس کا امکان موجود ہے، یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

Share This Article