تابندہ غنی کے وارثین 13برس بعد بھی انصاف کے منتظر ;نربھیا کیس کے طرز پر مجرمین کو بھی سزادی جانی چاہئے : وارثین

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر /20جولائی: معصوم طالبہ تابندہ غنی کے اہلخانہ آج 13برس بعد بھی انصاف کے منتظر ہے ۔ تابندہ غنی کو شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میں اسی روز 2007میں درندہ صفت 4افراد نے اپنی ہوس کا شکار بناکر ابدی نیند سلادیا ۔ تابندہ غنی کیس کے تمام مجرمین اگرچہ اس وقت بھی جیل میں ہیں تاہم اہلخانہ کا مطالبہ ہے کہ جس طرح سے نربھیا معاملے میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا اسی طرز پر اس کیس میں بھی کاررائی کی جائے ۔ تابندہ غنی سکول سے اپنے گھر کی طرف آرہی تھی جب درندہ صفت انسانوں نے اس کو درندگی کاشکار بناکر ہلاک کرڈالا جن کی شناخت ساقب میر، اظہر میر،موچی جہانگیر انصاری،سریش کمار راجستھان مجرمین ہیں ۔ اس ضمن میں پولیس نے معاملہ درج کرکے مجرمین کو کوٹ پہنچایا جہاں پر مجرمین کو سزا تو سنائی گئی لیکن یہ سز ا گناہ سے کہیں کم تھی اور مجرموںنے کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں معاملہ ابھی زیرکارروائی ہے ۔ تابندہ غنی کے وارثین کا اب مطالبہ ہے کہ اس کے گناہگاروں کو نربھیا معاملے میں جس طرح سزا ملی تھی اسی طرز پر ان کو بھی سزا ملنی چاہئے ۔

Share This Article