سرینگر/14مئی/سی این آئی// کمشنر سیکریٹر برائے ایجوکیشن کی جانب سے پرائیویٹ سکولوںکو فیس وصول کرنے کی گرین سگنل ملتے ہی پرائیویٹ سکولوںنے والدین کے موبائلوں پر فیس کے تقاضہ کے پیغامات بھیجنے شروع کردئے گئے ہیں جس پر پیرنٹس ایسوسوسی ایشن کشمیر نے پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے طلبہ سے فیس کی وصولی کے سرکار کے حالیہ فرمان پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کووڈ 19کے چلتے جب سب کچھ ٹھپ ہے اور لاک ڈاون کی وجہ سے لوگوں کی معاشی حالت بگڑ گئی ہے تو اس پر فیس کا تقاضہ کرنا والدین کے ساتھ ناانصافی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کمشنر سیکریٹری برائے تعلیم کی جانب سے حال ہی میں پرائیویٹ سکولوں کو راحت دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ طلبہ کے والدین سے ٹیوشن فیس حاصل کرسکتے ہیں تاہم ابھی تک اس سلسلے میں یوٹی جموں کشمیر سرکار کی جانب سے کوئی سرکاری آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن پرائیویٹ سکول منتظمین نے بچوں کے والدین کو موبائل پر پیغامات بھیجنے شروع کردئے ہیں جن میں فیس اداکرنے کا تقاضہ کیا جارہا ہے جس پر سٹوڈنٹ پریرنٹس ایسوسی ایشن نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے اس حکمنامے کو سراسر ناانصافی قراردیا ہے ۔ پروئیویٹ سکول پیرنٹس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ کووروناوائرس کے نتیجے جاری لاک ڈاون سے لوگوں کی معاشی حالت کس قدر بگڑ گئی ہے اور تمام کاروباری ادارے ، پرائیویٹ کمپنیاں اور دیگر نجی ادارے بند ہے تو والدین فیس کس طرح اداکرسکتے ہیںاس کے ساتھ ساتھ سکول بھی گذشتہ دو ماہ سے بند پڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کو والدین سے پیسے نکالنے کیلئے موقع ملنا چاہئے جیسا کہ انہوںنے گذشتہ برس بھی کیا تھا جب 370کا خاتمہ ہوا اور سکول قریب 6ماہ تک بند رہے اس کے باوجود بھی سکول والوںنے والدین سے فیس وصول کرلیا۔
