ماہ مقدس میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کو لیکر عوام پریشان

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Tameel Irshad Representational Picture

سرینگر/12 مئی: ماہ رمضان میں بھی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے سلسلے میں زمینی سطح پر ہاہا کار مچی ہوئی ہے،بجلی اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی پر لوگ سڑکوں پرآنے کیلئے مجبور رہو رہئے ہیں جبکہ لوگوں کو راشن کی عدم دستیابی کے خلاف بھی کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصہ کی لہر ہائی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ماہ رمضان میں لوگوں کو تمام تر بنیادی سہولیات بہم رکھنے کے سرکاری دعوئوں کے بیچ وادی کے اطراف و اکناف میں لوگوں کو بجلی ، پانی اور راشن کی عدم دستیابی کو لیکر کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ ماہ مقدس کے ان ایام میں بھی افطاری اور سحری کے اوقات لوگوں کو بجلی کی سپلائی میسر نہ ہونے کے باعث کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گرمیوں کے ان ایام میں بھی پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقنی بنانے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے زمینی سطح پر اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوںمیں ہاہا کار مچی ہوئی ہے ۔ماہ مقدس میں بھی لوگوں کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث لوگ سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں ۔ اسی دوران وادی کے کئی علاقوں کے لوگوں نے بتایا کی علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور پی ای ای محکمہ وادی کے عوام کو بنیادی ضرورت فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوتا جارہا ہے جبکہ طبی سہولیات کا فقدان اس قدر پایا جارہا ہے کہ ڈاکٹروں کے نجی کلنکوں پر اسپتالوں سے زیادہ بیمار دکھائی دیتے ہیں اور اسطرح سرکاری اسپتالوں کی افادیت مکمل طور پربے معنی ہوکر رہ گئی اور انتظامیہ خواب خرگوش میں پڑی ہوئی ہے .

Share This Article