لل دید ہسپتال میں ایک ہی بیڈ پر 2سے تین مریض؛کئی ہسپتال بند رہنے کے نتیجے میں ہسپتال پر کافی دبائو، اعلیٰ حکام سے لوگوں کی اپیل

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/21اپریل/سی این آئی// وادی کے واحدبڑے زچہ بچے ہسپتال لل دید میںایک ہی بیڈ پر 2دو تین تین مریضوں کورکھا جارہا ہے جس کے نتیجے میں درد زہ میں مبتلاء خواتین یا زچگی کیلئے ہسپتال میں داخل خواتین کو سخت جسمانی اورذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کوروناوائرس کے نتیجے میں کئی ہسپتال بند رہنے کی وجہ سے دردزہ میں مبتلاء خواتین کو لل دیدہسپتال جانا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ہسپتال پر ان دنوں اضافی بوجھ ہے ۔ ہسپتال میں داخل خواتین مریضوں کو ایک ہی بیڈ پر دو دو تین تین کو رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ شعبہ ایمرجنسی میں خواتین ڈاکٹروں کی بھی کمی ہے اگرچہ ایمرجنسی شعبہ میں تین سے 4لیڈی ڈاکٹر موجود رہتیں ہیں لیکن ہسپتال میں مریضوں کا کافی رش رہتا ہے اور وہاں ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹروں کو بھی بھاری دبائو کا سامنا ہے ۔ کوروناوائرس کے نتیجے میں رعناواری ہسپتال، سکمز بمنہ اور سی ڈی ہسپتال ڈلگیٹ کو کوروناوائرس میں مبتلاء مریضوں کیلئے مختص رکھا گیا ہے جبکہ رعناواری ہسپتال کا شعبہ گینی کالوجی ، اور سکمز بمنہ میں شعبہ خواتین بھی غیر فعال ہونے کے نتیجے میں حاملہ خواتین یا درد زہ میں مبتلاء خواتین مریضوںکو بھی لل دید ہسپتال پہنچایا جاتا ہے جس کے باعث لل دید ہسپتال پر کافی دبائوبنارہتا ہے اور یہاں پر ایک ہی بیڈ پر 2سے تین مریضائوں کو رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہسپتال میں داخل مریضوں کو شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس دوران ہسپتال مین داخل مریضوں اور ان کے تیمارداروں نے اس سلسلے میں محکمہ ہیلتھ اور صوبائی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کرکے ہسپتال کو دبائو کو کم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں تاکہ مریضوں کے ساتھ ساتھ ہسپتال عملہ بشمول ڈاکٹروں کو پریشانی سے نجات ملے ۔

Share This Article