لاک ڈاؤن:یوٹی اورریاستیں سختی سے کریں عمل؛خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کی جائیگی کارروائی/مرکزی حکومت

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
A deserted view of Lal Chowk in Srinagar with all business activities closed as authorities imposed strict restrictions and sealed all measures roads to cut moment of people as a measure to contain the spread of Coronavirus

سرینگر/29مارچ: مرکز نے ریاستوں کو لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی ہے۔کابینہ کے سکریٹری اوروزارت داخلہ کے سکریٹری ، ریاستوں کے چیف سکریٹریوں اور ڈی جی پیز کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔جبکہ مرکز نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ تارکین وطن مزدوروں سمیت غریب اور نادار افراد کے کھانے اور رہائش کے مناسب انتظامات ان کے کام کی جگہ پر کئے جائیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مرکز نے ریاستوں کو لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی ہے۔کابینہ کے سکریٹری اوروزارت داخلہ کے سکریٹری ، ریاستوں کے چیف سکریٹریوں اور ڈی جی پیز کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔ کابینہ سکریٹری اور ہوم سکریٹری کے ذریعہ کل شام اور آج صبح چیف سکریٹریوں اور ڈی جی پیز کے ساتھ ویڈیو کانفرنسیں منعقد کی گئی۔جس میں تمام ریاستوں و مرکز زیرانتظام علاقوں میں لاک ڈاؤن پر سخت سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں میں ضروری سامان کی سپلائی کو برقرار رکھنے پر زور دیاہے۔24 گھنٹے صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے اور ضرورت کے مطابق ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔تاہم ، ملک کے کچھ حصوں میں تارکین وطن کارکنوں کی نقل و حرکت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔مرکزی کی جانب سے جاری ہدایات میں ضلعی اور ریاستی سرحدوں کو موثر طریقے سے سیل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس پہلے بھی ریاستوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ شہروں یا شاہراہوں پر لوگوں کی نقل و حرکت یقینی نہ ہو۔مرکزی حکومت نے اپنے احکامات میں کہا کہ صرف ضروری سامان کی نقل و حرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان ہدایات پر عمل درآمد کے لئے ڈی ایم اور ایس پیز کو ذاتی طور پر ذمہ داربنانے کی ہدایت گئی ہے۔جو ڈی ایم ایکٹ کے تحت خدمات انجام دیں گے۔مرکز نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ تارکین وطن مزدوروں سمیت غریب اور نادار افراد کے کھانے اور رہائش کے مناسب انتظامات ان کے کام کی جگہ پر کئے جائیں۔ وہیں مرکز نے اس مقصد کے لئے ایس ڈی آر ایف فنڈز کے استعمال کے لئے کل احکامات جاری کیے تھے۔اس فنڈ کے تحت ریاستوں کے پاس کافی فنڈز دستیاب ہیں۔سی این آئی کے مطابق ریاستوں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران مزدوروں کو ان کے کام کی جگہ پر اجرت کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔ اس مدت کے لئے مزدوروں سے مکان کرایہ کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہئے اورجو افراد مزدوروں یا طلبائ￿ کو احاطہ خالی کرنے کو کہتے ہیں کہ ان کے خلاف کاروائی کی جانی چاہیے۔ جن لوگوں نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی ہے اور لاک ڈاؤن کے دورانیے کے دوران سفر کیا ہے۔ انھیں سرکاری قرنطین سہولیات میں کم از کم 14 دن کے قرنطین سے مشروط کیا جائے گا۔قرنطین کے دوران ایسے افراد کی نگرانی سے متعلق تفصیلی ہدایات ریاستوں کو جاری کردی گئیں۔ تمام ریاستوں سے یہ بات زور دیاگیاہے کہ کورونا وائرس کی وباء قابو پانے کے لئے تین ہفتوں تک سخت نفاذ ضروری ہے اور یہ سب کے مفاد میں ہے۔

Share This Article