نئی دہلی، 13 فروری (بصیرت نیوز سروس) طلاق سے متعلق بل پیش ہونے سے پہلے ہی راجیہ سبھا میں بجٹ سیشن کے اختتام کا اعلان کردیا گیا ۔ ایوان میں عبوری بجٹ کو بھی کسی بحث کے بغیر پاس کردیا گیا، پہلے سے یہی امید تھی کہ یہ بل بجٹ سیشن میں بھی پاس نہیں ہوپائے گا لیکن یہ امید کم ہی تھی کہ حکومت اس بل کو بجٹ سیشن میں پیش کرنے کی ہمت بھی نہیں کرپائے گی ۔ راجیہ سبھا نے صدر جمہوریہ کے خطاب پر تحریک شکریہ کو بھی پاس کردیا ۔ رافیل معاملہ پر راجیہ سبھا میں کیگ رپورٹ پیش ہونے کے بعد سے ہی اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی شروع کردی تھی ۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی رافیل ڈیل یو پی اے سرکار میں مجوزہ ڈیل سے سستی ہے ۔ خیال رہے کہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے مسلم خواتین ( شادی کے حقوق کا تحفظ ) بل 2018 کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجا جائے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی تین طلاق سے متعلق بل کو خواتین مخالف قرار دیا ہے اور خود مسلم خواتین بھی اس بل کو اپنے حق میں بہتر نہیں مان رہی ہیں.
مجوزہ قانون کے تحت ایک مرتبہ میں تین طلاق دینا غیر قانونی اور کالعدم ہوگا اور ایسا کرنے والے کو تین سال تک کی سزا ہوسکتی ہے ۔ گزشتہ سال دسمبر میں اس بل کو لوک سبھا میں پاس کردیا گیا تھا ۔
بل پرایوان میں طویل بحث بھی ہوئی تھی ۔ بل میں ضروری ترامیم کو لے کر کانگریس اور اے آئی اے ڈی ایم کے سمیت کئی سیاسی پارٹیوں نے ایوان سے واک آوٹ کیا تھا؛
حالانکہ اس کے بعد بھی بل پر ووٹنگ کرائی گئی ۔ ایوان میں موجود 256 اراکین میں سے 245 اراکین نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ 11 اراکین نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا

