برفباری سے پیداشدہ صورتحال سے جنگی بنیادوں پر نمٹا جائے::ڈاکٹر فاروق عبداللہ

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

سڑک رابطوں کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے

سرینگر: نیشنل کانفرنس نے ڈویژنل انتظامیہ سے تازہ برفباری اور بارشوں کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے کی اپیل کی ہے۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ (رکن پارلیمان) نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ برفباری کے نتیجے میں منقطع ہوئے علاقوں اور دیہات کے ساتھ سڑک روابط بحال کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کریں۔ انہوں نے صوبائی کمشنروں اور ضلع ترقیاتی کمشنروں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر عوام کی راحت رسانی کے اقدامات کی نگرانی کریں۔ اور سرحدی علاقوں میں متعلقہ انتظامیہ اور فیلڈ سٹاف کو متحرک کریں۔انہوں نے کہا کہ سڑک رابطوں کی بحالی کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے کیونکہ سڑکوں رابطوں کے منقطع ہونے سے لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ سڑک رابطوں کی بحالی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کیلئے کئی کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑ رہا ہے۔بہت سارے علاقے ایسے ہیں جو پہلی برفباری سے آج تک مسلسل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے صوبائی انتظامیہ پر زور دیا کہ اس بار غلطیاں دہرائی نہیں جانی چاہئے اور بروقت سڑک رابطوں کی بحالی کیساتھ ساتھ جنگی بنیادوں ایسے علاقوں میں بجلی کی مکمل سپلائی بحال کی جانی چاہئے جہاں برفباری سے ترسیلی لائینوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناہ، مژھل، ٹنگڈار، گریز، سنتھن ،کپرن ، شوپیان، پہلگام ، مروہ ، مڑون ،دھچن، جمہ گنڈ،سنگرونی پلوامہ اور بانہال کے پہاڑی اور دور دراز علاقوں کے علاوہ دیگر دور دراز علاقوں میں جنگی بنیادوں پر برف ہٹائی جائے کیونکہ ان علاقوں میں رہ رہے لوگوں کو آمد و رفت نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ ایسے علاقوں کیلئے ہیلی کاپٹر سروس میسر رکھی جائے جو وادی سے کٹ کر رہ گئے ہیں تاکہ ان علاقوں لوگ ایمرجنسی کی صورت میں اس سہولیات سے فائدہ اُٹھا سکیں

Share This Article