وادی کشمیر میں سوائن فلو بیماری سے بڑھتے اموات ، لوگوں میں فکر و تشویش کی لہر، تعداد 15تک پہنچ گئی

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سکمز صورہ اسپتال میں مزید تین مریض دم توڑ بیٹھے

سرینگر/24جنوری: سوائن فلو بیماری مبتلا 3مریضوںکی صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میںموت واقع ہوئی۔ جس کے ساتھ ہی رواںموسم کے دوران سوائن فلو کی وجہ سے لقمہ اجل بننے والے افراد کی تعداد 15تک پہنچ گئی۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق خنزیری وائرس (سوئن فلو ) نے ایک دفعہ پھر وادی میں دستک دیتے ہوئے امسال واد ی کشمیر میں 15فراد کی موت واقع ہوئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سکمز صورہ میںسوائن فلو سے متاثرہ 2مریض منگلوار جبکہ ایک اور مریض بدھوار کو زندگی کی جنگ ہار گیا۔ وادی کشمیر میںسوائن فلو کی وجہ سے اموات کا سلسلہ سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ 2روز کے دوران اس فلو یا وائرس سے متاثرہ مزید3مریضوں کی صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر میں موت واقع ہوگئی اور اس طرح ستمبر2018سے اب تک وادی میں سوائن فلو کے نتیجہ میں15افراد لقمہ اجل بن گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ سال 2017میں وادی کشمیر میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہے ۔اسی دوران اسپتال سپرانٹنڈنٹ کے مطابق سوئن فلو بیماری پر قابو پانے کیلئے اسپتال میں وافر مقدار میں ادویات کا اسٹاک موجود ہے۔ تاہم مریضوں اور تیمارداروں نے الزام لگایا کہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں سوئن فلو کیلئے کوئی احتیاطی تدابیر نہیں اٹھائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں اس مہلک مرض کا شکار افراد موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

Share This Article