انجینئر رشید نے گورنر کو فون کر کے انکی پیشکش کا خیرمقدم کیا، کہا اپنے بیانات کی سنجیدگی ثابت کرنے کیلئے سیاسی قیدیوں کو فوری طور رہا کرائیں

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

سرینگر 16 جنوری: عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے گورنر ستپال ملک کے اس بیان کا، کہ حریت قیادت کو عوام پر کسی بھی قسم کے تشدد اور متعلقہ معاملوں پر ان (گونر) کے ساتھ براہ راست بات کرنی چاہیے، خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کو زبانی بیانات سے ایک قدم آگے بڑھ کر اعتماد سازی کے اقدامات کو ممکن بنانا چاہیے تاکہ انکی سنجیدگی ثابت ہو جائے۔ انجینئر رشید نے آج گورنر کے ساتھ فون پر بات کی جسکے دوران انہوں نے انکی پیشکش کی تعریفیں کرتے ہوئے تہار اور دیگر جیلوں میں قید سیاسی قیدیوں کی رہائی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تہار میں بند شاہد الاسلام کی رہائی کیلئے خصوصی کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ جہاں وہ خود جیل میں بند ہیں انکی اہلیہ سخت علیل ہیں۔ انجینئر رشید نے گونر سے کہا کہ اگر وہ واقعی حریت قیادت اور مخالف سوچ رکھنے والی دیگر قوتوں کی عزت اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پرواہ کرتے ہیں تو پھر جیلوں میں قید سیاسی قیدیوں، باالخصوص شاہد الاسلام کی فوری رہائی کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی، قاسم فکتو، مسرت عالم اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی سے ایک سنجیدہ سیاسی اور مذاکراتی عمل کیلئے موافق ماحول بنایا جا سکتا ہے۔انجینئر رشید نے گورنر سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے خلاف فرد جرم عائد کئے جانے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ان طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ گونر ملک نے انجینئر رشید کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مذاکراتی عمل شروع کرانا انکے حد اختیار میں نہیں ہے تاہم وہ دیگر سبھی معاملات کو لیکر متعلقین سے بات کریں گے۔گونر کے ساتھ بات کرنے کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا کہ اگرچہ کشمیری عوام مخاصمت میں یقین نہیں رکھتے ہیں تاہم یہ حقیقت ریاستی گونر سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے کہ حریت قیادت ہو یا کوئی اور کشمیری سبھی اپنے جائز سیاسی حقوق کے حصول اور مسئلہ کشمیر کو، اسکے سیاسی تناظر میں، حل کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاگورنر کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ کا سنجیدہ نو ٹس لیتے ہوئے ممکنہ حد تک سیکیورٹی فورسز کو جوابدہ بنانا چاہیئے۔گورنر صاحب حریت قیادت یا کسی سے بھی اختلاف کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن ریاست کے موجودہ سربراہ کے بطور انہیں یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا احترام اور سیاسی انتقام گیری کا خاتمہ ہو۔ انجینئر رشید نے کہا کہ گورنر کو یہ بات بھی یقینی بنانی چاہیے کہ بزرگ اور علیل راہنما سید علی شاہ گیلانی کو رہا کیا جائے اور نوجوانوں اور دیگر سیاسی کارکنوں کے خلاف دائر کردہ فرضی مقدموں کو بلا شرط اور فوری طور ختم کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سب کے بغیر گونر کے بیانات پر اعتبار کرنا ممکن نہیں ہے۔

Share This Article