سرینگرمیں آج ایک دل دہلا دینے معاملہ سامنے آیاہے۔دراصل، سرینگر شہر میں دو کمسن بچوں سمیت ایک ہی کنبے کے پانچ افراد دم گھٹنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے ۔یہ سانحہ سرینگر کے بمنہ علاقے میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب رونما ہوا ہے، جہاں ایک کمرے میں رسوئی گیس لیک ہوجانے کی وجہ سے کمرے میں گہری نیند میں سوئے ہوئے پانچ افرد کی دم گھٹنے سے موت ہوگئی ۔ اطلاعات کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ کے ٹنگڈار کا یہ کنبہ سرینگر کے بمنہ علاقے کی منصور کالونی میں ایک کرایہ کے کمرے میں رہائش پذیر تھا۔ آج صبح کنبے کے تمام پانچ افراد، جن میں دو خواتین ، دو بچے اور ایک مرد شامل ہیں ، کو انکے بستروں میں مردہ پائے گئے۔
اس سانحہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے کے لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے ۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ دہاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔پولیس نے پانچوں لاشیں اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ معالجین نے اس بات تصدیق کرلی ہے کہ یہ اموات دم گھٹنے کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وادی میں ان دنوں سخت سردی ہے۔کم سے کم درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سیلسیس تک چلا جاتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں عمومی طور پر لوگ ایسے بند کمروں میں سوتے ہیں ۔ بمنہ میں جس کمرے میں یہ پانچ لوگ دم گھٹنے سے فوت ہوئے ، اس کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کمرے میں آکسیجن گزرنے کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں تھی۔
اس سانحہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے کے لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے ۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ دہاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔پولیس نے پانچوں لاشیں اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ معالجین نے اس بات تصدیق کرلی ہے کہ یہ اموات دم گھٹنے کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وادی میں ان دنوں سخت سردی ہے۔کم سے کم درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سیلسیس تک چلا جاتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں عمومی طور پر لوگ ایسے بند کمروں میں سوتے ہیں ۔ بمنہ میں جس کمرے میں یہ پانچ لوگ دم گھٹنے سے فوت ہوئے ، اس کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کمرے میں آکسیجن گزرنے کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں تھی۔

