مندر پر کام جلدی شروع ہونا چاہئے ، تعمیر کے وقت میں بھی ایک پتھر لگانا چاہتاہوں
سرینگر/04جنوری/: رام مندر کی تعمیر کے کے وقت سنگ بنیاد رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ رام مندر کا معاملہ آپسی مشاورت سے حل کرنے کی وکالت کرتے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے کہا کہ ’’بھگوان رام جی‘‘کے مندر کی تعمیر میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے’’بابری مسجد کی جگہ رام مندری بنانے کے حق میں ‘‘بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شری بھگوان رام جی کے مندر کی تعمیر پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس خواہش کابھی اظہار کیا ہے کہ رام مندر کی تعمیر کے وقت وہ مندر کا سنگ بنیاد رکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ آپسی رضامندی اور بات چیت کے ذریعے حل ہوسکتا ہے ۔ اس کو عدالت لے جانے کی کیا ضرورت ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ رام جی پوری دنیا کے بھگوان تھے ان سے کسی کو کیا بیر ہوسکتی ہے اور کی تعمیر کو جلدی شروع کردینا چاہئے ۔ ایک انگریزی خبررساں ادارے کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اس معاملہ کو دونوں فریقوں میں بات چیت کے ذریعہ حل کرلینا چاہئے۔رام مندر کے معاملہ پر نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبد اللہ نے کہا ہے کہ اس معاملہ کو دونوں فریقوں میں بات چیت کے ذریعہ حل کرلینا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی رام مندر بنے گا وہ بھی وہاں ایک پتھر لگانے جائیں گے۔فاروق عبد اللہ نے کہا کہ بھگوان رام سے کسی کو بیر نہیں ہونا چاہئے ، کوشش سلجھانے کی ہونی چاہئے ، جس دن یہ ہوجائے گا میں بھی ایک پتھر لگانے جاوں گا۔ جلدی حل ہونا چاہئے۔خیال رہے کہ اس سے قبل جمعہ کو سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازع کی سماعت ہوئی۔ صرف 60 سکینڈ ہی اس معاملہ کی عدالت عظمی میں سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کے ذریعہ تشکیل دی گئی ایک مناسب بینچ اس معاملہ کی سماعت کی تاریخ طے کرنے کیلئے 10 جنوری کو حکم صادر کرے گی۔یاد رہے کہ ’’بابری مسجد ‘‘ شہید کرنے کے بعد انتہا پسند ہندو تنظیموں نے اس جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس معاملے کو مسلم تنظیموں نے معاملہ سپریم کورٹ پہنچایا اگرچہ عدالت عظمیٰ میں یہ معاملہ برسوں سے چل رہا ہے لیکن مندر کی تعمیر کیلئے زمینی سطح پر تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہے اور ایودھیا میں مندر کی تعمیر کیلئے درکار تمام مواد پہنچایا گیا ہے اب ہندو تنظیمیں اس کی تعمیر کوقانونی جوازیت پیش کرنے کیلئے سرکار سے مطالبہ کررہی ہے کہ رام مندر کی تعمیر میں پارلیمنٹ قرارداد پاس کی جائے تاہم مرکز نے اس معاملے میں فی الحال خاموشی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی اس معاملے پر کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔

