جموں وکشمیر ’سیکس ٹارشن ‘پر پابندی لگانے کے لئے قانون نافذ کرنے والی پہلی ریاست

By
1 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں وکشمیر ملک کی ایسی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز افسران کی طرف سے خواتین کا جنسی استحصال کیے جانے پر روک لگانے کے لیے جموں وکشمیر کریمنل لاز بل 2018 اور پریونشن آف کرپشن بل 2018 کو منظوری دے دی گئی ہے۔ اس تعلق سے گزشتہ روز ریاستی انتظامی کونسل کی گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں اسے منظوری دی گئی۔

بِل کی رو سے ‘ایویڈنس ایکٹ’ کے سیکشن 53اے اور کریمنل پروسیجر کورٹ کے شیڈول کے حوالے سے سیکشن 154اور 161 میں ترامیم لائی جارہی ہیں تاکہ ‘سیکس ٹارشن’ کو آر پی سی کے تحت دیگر جرائم کے ہم پلہ لایا جائے۔

اس اقدام سے ریاست جموں وکشمیر ملک کی ایسی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں کام کی جگہوں پر خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی اور استحصال کو روکنے کے لئے باقاعدہ طور پر ایک قانون بنایا گیا ہے۔

یو این آئی

Share This Article