کشمیر میں بھارتی فورسز کی عام شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں: او آئی سی

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Picture

بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات کریں

سرینگر؍17دسمبر// جے کے این ایس؍ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو قتل کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق او آئی سی کی جانب سے یہ بیان پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جاری مظالم کو روکنے کے لیے عالمی برادری سے ’مداخلت‘ کا مطالبہ کیا تھا۔ادارے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ اسلامی تعاون تنظیم کا جنرل سیکریٹریٹ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو قتل کرنے کی سخت مذمت کرتا ہے‘۔بیان میں کہا گیا کہ ’ضلع پلواما میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا‘او آئی سی کے بیان میں کہا گیا کہ ’سیکریٹریٹ اس دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ او ا?ئی سی اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی بین الاقوامی قرار داد کی روشنی میں کشمیر میں تنازع کا مستقل اور پائیدار حل نکالنے میں کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کی خواہشات کو پورا کرے‘۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جنرل سیکریٹریٹ متاثرین کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہے۔قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، ہیومن رائٹس کمیشن اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھے ہیں جن میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا فوری نوٹس لینے اور انہیں اس ظلم سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے پلواما میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں 14 کشمیریوں کی شہادت پر مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے عالمی برادری سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ’لوگوں کو اس ظلم سے نجات مل سکے‘۔شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ او آئی سی کیسیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ فوری طور پر وہ کشمیر پر اپنے کانٹیکٹ گروپ کا اجلاس طلب کرے اور پاکستان کانٹیکٹ گروپ کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے ضلع پلواما میں بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی تھی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اٹھائیں گے‘۔انہوں نے کہا تھا کہ ’ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے‘۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ’ مسئلہ کشمیر ’ تشدد اور قتل ‘ کے ذریعے نہیں بلکہ صرف مذاکرات سے حل ہوسکتا ہے‘۔

Share This Article