اسکول کے ڈرامہ میں لڑکی کے اذان پڑھنے پر تنازعہ، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

کیرالہ ۔ کوزی کوڈ کے ایک اسکولی ڈرامہ میں  لڑکی کے اذان پڑھنے کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد اسکول نے ریاستی سطح پر مقابلے میں اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔  وٹاکرا میں میمونڈا ہائی اسکول نے راجسو ضلع اسکول آرٹ فیسٹیول میں پہلا مقام حاصل کیا۔ مصنف آر انّی کی کہانی ‘وانکھ’ پر مبنی ڈرامہ ‘کتاب” میں اہم کردار نبھانے والی لڑکی کو بہترین اداکار کا اعزاز ملا ہے۔

یہ تنازعہ تب اٹھا جب  ڈرامہ کا انتخاب اسکولی سطح پر مقابلے کیلئے ہوا۔ ‘کتاب’ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے مؤذن والد کی طرح اذان پڑھنا چاہتی ہے۔ کیرالہ سنی اسٹوڈینت فیڈریشن اور سنی یوجن سنگھم  نے ڈرامہ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور کمیونٹی کے ایک گروپ کو غلط طریقے سے دکھایا گیا ہے۔

روایت کے تحت اذان صرف مرد پڑھ سکتے ہیں۔ مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ ڈرامے نے مسلمانوں کی طرز زندگی کی توہین کی ہے۔

اسکول ہیڈ ماسٹر پی کے کرشنا داس نے کہا کہ اسکول کسی کے بھی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا اس لئے ریاستی سطح  کے مقابلے سے اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ ڈرامہ کو پروڈیوس کرنے والے رفیق منگل سیری نے کہا کہ انتہا پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے ڈرامہ کا انعقاد نہیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

Share This Article