مزاحمتی قائدین کا ناروے کے سابقہ وزیراعظم سے ملاقات، سیاسی اور حقوق انسانی کے حوالے سے ابتر صورتحال سے آگاہ

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر23نومبر: مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی شاہ گیلانی اور میرواعظ ڈاکٹرمولوی عمر فاروق نے حیدرپورہ میں ناروے کے سابقہ وزیراعظم Mr.Kjell Magne Bondevik کی قیادت میں کشمیر کے دورے آئے ہوئے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی جبکہ محمد یاسین ملک جو اس وقت جیل میں ہیں اس ملاقات میں شامل نہیں ہوسکے ۔ملاقات کے دوران قائدین نے معزز مہمان کو جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی اور حقوق انسانی کے حوالے سے ابتر صورتحال سے آگاہ کیا۔وفد کو بتایا گیا کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ سات دہائیوں کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کو التوا میں رکھنے کی بنا پر یہاں کے عوام کو شدید مشکلات ،ماردھاڑ، قتل و غارت گری ، حقو ق انسانی کی ابتر پامالیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کالے قوانین کے بل پر یہاں کے عوام کے جملہ حقو ق کو سلب کرلیا گیا ہے ۔قائدین نے معزز مہمان کو بتایا کہ جموں وکشمیر کے عوام حق خودارادیت کی بنیاد پر دیرینہ تنازع کشمیر کا ایک ایسا دائمی اور پر امن چاہتے ہیں جس کیلئے یا تو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پاس قراردادوں پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے یا مسئلہ کشمیر سے جڑے تینوں فریقین بھارت پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین جامع مذاکراتی عمل کا قیام لایا جائے تاکہ اس مسئلہ کا کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ایک دیرپا حل تلاش کیا جاسکے تاکہ یہاں کے عوام کو اُن مصائب سے چھٹکارا مل سکے جن کا اس مسئلہ کی وجہ سے اُنکو سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ناروے ایک ایسا ملک ہے جو پوری دنیا میں متنازعہ مسائل کے حل کیلئے ایک مثبت کردار اداکرتا رہا ہے لہٰذاجموں وکشمیر میں روزانہ ہو رہے قتل و غارتگری کے واقعات اور اس مسئلہ کے دائمی حل کیلئے حکومت ناروے کو آگے آنا چاہئے ۔قائدین نے معزز مہمان کو اُس تکلیف دہ صورتحال اور مسائل و مصائب سے آگاہ کیا جن کا کشمیری عوام کو روزانہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام پر ہو رہی زیادتیوں کو روکنے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔وفد کے اراکین نے قائدین کو یقین دلایا کہ وہ بھی مسئلہ کشمیر کا ایک ایسا حل چاہتے ہیں جس میں کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کو مد نظر رکھا جائے اور وہ کوشش کریں گے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز ہو سکے جس میں کشمیری عوام کو اعتماد میں لیکر اس مسئلہ کے منصفانہ حل کیلئے مثبت اور نتیجہ خیز کوششیں کی جاسکیں

Share This Article