طالبہ کے سامنے صفائی عملہ نے کی مشت زنی، یونیورسٹی میں زبردست ہنگامہ

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنولاجی کی ایک طالبہ نے جمعرات کے روز یونیورسٹی کے ایک ملازم پر اس کے سامنے مشت زنی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ طالبہ نے کہا کہ کالج انتظامیہ نے اس کی شکایت پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ طالبہ کے الزام کے بعد جمعرات کی رات ہزاروں کی تعداد میں کالج طلبہ نے احتجاج کیا۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق، جمعرات کی شام تقریباََ تین بجے سیکنڈ ایئر کی ایک طالبہ ہاسٹل سے گھر جانے کے لئے چوتھی منزل پر لفٹ میں چڑھی، لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران ہو گئی کہ لفٹ کے اندر موجود صفائی ملازم نے اسے دیکھ کر مشت زنی کرنی شروع کر دی۔ صفائی ملازم کو دیکھ کر طالبہ نے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن اس نے راستہ روک دیا۔ جس کے بعد طالبہ مدد کی گہار لگانے لگی اور اس سے لڑتے ہوئے کسی طرح باہر نکل گئی۔

وہیں دوسری جانب ایس آر ایم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سندیپ سنچیتی نے تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ شاکایت کی تحقیقات کرےگا۔ انہوں نے کہا، ’’ طلبہ ہم سے بات کر رہے ہیں۔ جو کچھ بھی معاملہ ہے اسے دیکھا جائےگا۔ اگر ضرورت ہوئی تو جانچ کی جائےگی‘‘۔

مظاہرہ کرنے والے ایک طالب علم نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ طالبہ کی شکایت کے دو گھنٹے بعد ہاسٹل کی وارڈن لفٹ میں لگی سی سی ٹی وی فوٹیج تک پہنچی اور شکایت درج کرنے میں دیر کی۔ ایک دیگر طالب علم نے الزام لگاتے ہوئے کہا، ’’ طالبہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملازم کی شناخت کرلی تھی لیکن انتظامیہ نے اسے معاملہ میں خاموش رہنے کے لئے کہا‘‘۔

Share This Article