جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کی اعلیٰ ترین سطح سے آیا: ترک صدر

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوگان کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کی اعلیٰ ترین سطح سے آیا، سعودی ولی عہد کے اقدامات کا تحمل سے انتظار کررہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ فرانس سے وطن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ترک صدر رجب طیب اردوگان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد نے معاملے کی وضاحت اور ہر قسم کے اقدامات اٹھانے کا کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے 18 افراد میں مبینہ طور قاتل موجود ہیں، خاشقجی کے قتل کے احکامات دینے والے کو ظاہر کرنا ہوگا، خاشقجی کے قتل کی ریکارڈنگ حقیقتاً خوفناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیرس میں امریکی، فرانسیسی، جرمن رہنماؤں سے خاشقجی قتل پر گفتگو ہوئی، ریکارڈنگ امریکا، فرانس، کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ سمیت سب کو سنوائیں، ہماری انٹیلی جنس ایجنسی نے خاشقجی قتل سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ سعودی انٹیلی جنس افسر ریکارڈنگ سن کر سکتے میں آگیا، سعودی انٹیلی جنس افسر نے کہا ایسا کچھ ہیروئن کے نشے میں کہا جاسکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی صحافی جمال خوشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

Share This Article