سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خاتون بینک کی سربراہ تعینات

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خاتون کو بینک کا سربراہ تعینات کردیا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سعودی کاروباری خاتون لبنا ال اولایان سعودی برٹش بینک اور الاول بینک کے انضمام سے بننے والے نئے بینک کی سربراہی کریں گی۔

بینک کی سربراہ بننے والی خاتون کو سعودی عرب کی فائنانس انڈسٹری میں خواتین کی آمد کا آغاز سمجھا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر مضحکہ خیز مواد قابل سزا جرم

امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والی لبنا نے فوربز کی مشرق وسطیٰ کی سب سے متاثر کن شخصیات کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہی ہیں۔

سعودی عرب برٹش بینک کی الاول بینک سے انضمام کے بعد بننے والا یہ نیا بینک ملک میں تیسرے بڑے بینک کی جگہ لے لے گا۔اس بینک کا مجموعی کیپیٹل 17.2 ارب ڈالر ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نئی نسل سے تعلق رکھنے والے پہلے سعودی بادشاہ ہوں گے، جنہوں نے بڑے پیمانے پر سعودی عرب میں اصلاحات کا نفاذ کیا اور خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کا خاتمہ کیا جبکہ قدامت پسند سعودی معاشرے میں جدت کو متعارف کروانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔

تاہم تنقید نگاروں کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات کا نفاذ سعودی سیاست میں نہیں ہوا جہاں نظامِ بادشاہت کے تحت حکمرانوں کی مخالفت پر ابھی بھی پابندی ہے۔

Share This Article