لیبیا میں 2011 میں قتل کے ملزم 45 افراد کوسزائے موت

By
1 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
A gavel and a name plate with the engraving Death Penalty

طرابلس، (رائٹر) لیبیا کی ایک عدالت نے سال 2011 کی بغاوت کے دوران دارالحکومت طرابلس میں قتل عام کرنے والے 45 لوگوں کو موت کی سزا سنائی ہے۔لیبیا کی وزارت انصاف نے بدھ کو یہ بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی۔

وزارت انصاف کے بیان میں اگرچہ معاملے کی تفصیلی معلومات نہیں ہے لیکن انصاف کی وزارت کے اہلکار نے کہا کہ یہ معاملہ لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹانے اور دارالحکومت طرابلس سے باہر کئے جانے کے بعد ان کی وفادار فوج کی طرف سے کیا گیا قتل عام سے منسلک ہے ۔

کم از کم 20 افراد کے قتل کے اس معاملے میں 45 لوگوں کو موت کی سزا، 54 کو پانچ سال کی جیل کی سزا ہوئی ہے جبکہ 22 کو بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے وقت مدعا علیہ کے وکیل اور ملزمان کے متعلقین عدالت میں ہی موجود تھے۔

انسانی حقوق گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ سالانہ رپارٹ میں لیبیا کی عدالتی نظام کو خراب مان کر کہا گیا کہ سال 2011 سے اب تک بہت سے لوگوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں رکھا گیا ہے۔

Share This Article