شوپیاں میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم جاری

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Picture

جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے کندلن علاقے میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان علی الصبح سے ہی تصادم جاری ہے۔

تصادم میں سکیورٹی فورسز نے ایک عسکریت پسند کو جاں بحق کردیا ہے جبکہ تین فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک عام شہری بھی زخمی ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تصادم میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں آرمی بیس ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس علاقے میں پتھر بازی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

خبروں کے مطابق منگل کی صبح کی اولین ساعتوں میں شوپیان کے بمنی پورہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سی آر پی ایف، ایس او جی اور 34 آر آر کے فوجی اہلکاروں نے علاقے کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کیا۔

سکیورٹی حکام نے تلاشی مہم کے دوران گولیاں چلائیں جس کے بعد آپریشن تصادم میں بدل گیا۔

ایک پولیس اہلکار نے اس تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی حکام اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو سے تین عسکریت پسندوں کو سکیورٹی اہلکاروں نے گیرے میں لیا ہوا ہے۔

زینت الاسلام نامی ایک عسکریت پسند کو حراست میں لیے جانے کی خبر ہے، اطلاعات کے مطابق بیٹے کی اطلاع جب ان کے والد کو ملی تو دل کا دورہ پڑنے کے سبب ان کی موت ہوگئی۔

تاحال سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم جاری ہے۔

مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Share This Article