نماز جنازہ میں، مذاحمتی، سماجی، صحافی اور مذہبی جماعتوں کابینہ وزرا ء اور قانون سازیہ ارکا ن کی شرکت کی
سرینگر/15 جون/سی این ایس / سینئر صحافی اور انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر ڈاکٹرشجاعت بخاری کو آ بائی علاقہ کریری بارہمولہ میں اشکبار آ نکھوں سے سپرد خاک کردیاگیا۔مرحو م کی نماز جنازہ میں، سیاسی مذاحمتی، سماجی، صحافی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ ریا ستی حکومت کے کئی کابینہ وزرا ء اور قانون ساز اسمبلی کے ارکا ن نے شرکت کی۔ادھرجامع مسجد سرینگر میں شجاعت بخاری کے حق میں نمازجنازہ ادا کی گئی۔ سی این ایس کے مطابق جمعرات کی شام صحافی شجاعت بخاری جونہی رائزنگ کشمیر کے دفتر سے باہر آکر گاڑی میں سوا ہوئے نامعلوم اسلحہ برداروں نے ان پر اندھادند فائرنگ کی جس سے شجاعت بخاری،اُنکے دو محافظین شدید زخمی ہوگئے۔ شجاعت اور انکے ایک محافظ موقعہ پر جابحق ہوگئے جبکہ انکے دوسرے محافظ کی بعدازاں اسپتال میں موت واقع ہوئی۔خیال رہے کہ پریس کالونی میں پیش آمدہ یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے کہ اس سے قبل ایک خبر رساں ایجنسی،نافا، کے ایڈیٹر پرواز محمد سلطان کو 2003 میں اسی طرح کے ایک حملے میں قتل کیا گیا تھا۔ اسپتال میں دم توڑنے کے بعد شجاعت بخاری کی جسد خاکی راتوں رات آ بائی علاقہ کر یری پہنچا ئی گئی جہاں میت پہنچتے ہی رات بھر کہرام تھا۔ ان کی جسدِ خاکی کو رات بھر کیلئے ان کے گھر میں رکھا گیا ۔ گیارہ بجے کے قریب ان کی نماز جنازہ مقامی عید گاہ میں اد کی گئی اور اندازے کیمطابق 20 ہزار سے زائد لوگ نمازہ جنازمیں شریک ہوئے۔لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔چناچہ کئی لوگ پیڑوں پر،کئی کھمبوں پر اور کئی فاضلیوں کے پڑوسیوں کے مکانوں کی چھت پر چڑ گئے تھے۔ گیارہ بجے کے قریب ان کی نماز جنازہ اد کی گئی ۔مرحو م کی نماز جنازہ میں، سیاسی مذاحمتی، سماجی، صحافی اور مذہبی جماعتوں اور شخصیات نے شرکت کی جبکہ ریا ستی حکومت کے کئی کابینہ وزراء قانون ساز اسمبلی کے ارکا ن کی ایک بڑی تعداد بھی شجاعت بخاری کی تجہیز وتکفین میں موجود تھی ۔ بعد ازاں انہیں آ بائی قبرستان اشکبار آنکھوں سے سپردخاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں سا بق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ، وزیر سیاحت تصدق مفتی، ریاستی وزیر نعیم اختر اور دیگر کابینہ وزیر بھی موجود تھے۔ اس دوران کریری اور اسکے مضافات میں شجا عت بخاری کی یاد میں تعزیتی ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ اور پورا علاقہ غمگین نظر آ رہا تھا۔

