ہزاروں کشمیری اسیران کو عید سے قبل رہا کیا جائے

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

شبیر احمد شاہ سمیت کئی مزاحمتی لیڈران فرضی کیسوں کے تحت تہاڑ جیل میں مقید:حریت(گ)

سرینگر:۱۳،جون:کے این این/ حریت (ع)نے جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کے جیلوں میں مقید ہزاروں کشمیری سیاسی نظر بندوں کو عید سے قبل رہا کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان قیدیون کو جیلوں میں بدترین سیاسی انتظام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور جیلوں میں ان لوگوں کو جن میں کمسن بچوں سے لیکر80سال تک کے بزرگ اور خواتین شامل ہیں ہر طرح کی سہولیات اور مراعات سے محروم رکھا جارہا ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق ترجمان نے جموں وکشمیر جہاں عملاً فوج کی حکمرانی ہے اور ہر جائز آواز کو طاقت اور تشدد کے بل پر کچلنے کا قانون عملاً نافذ ہیں میں جمہوری اور انسانی قدروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ پامال کیا جارہا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیر اور بھارت کی دیگر ریاستوں کی جیلوں جن میں سرینگر سینٹرل جیل ،تہاڑ جیل دہلی، امپھالا جیل کورٹ بلوال، ادھمپور ، کٹھوعہ، ہیرا نگر شامل ہیں میں مقید نظر بند کشمیری سیاسی قیدیوں کو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور کئی جیلوں میں تو ان لوگوں کو پیشہ ور مجرموں کے ساتھ رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو کچلنے کیلئے پولیس اور فورسز کے علاوہ NIA اور ED جیسی ایجنسیوں کو استعمال میں لاکر کئی سرکردہ مزاحمتی قائدین جن میں شبیر احمد شاہ ، شاہد الاسلام،الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر ، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، شاہد یوسف شاہ وغیرہ کو نام نہاد کیسوں میں پھنسا کر دہلی کی تہاڑ جیل میں مقید کردیا گیا ہے اور ان کی مدت قید کو مختلف حربے بروئے کار لاکر بلا وجہ طول دیا جارہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس طرح دیگر درجنوں کشمیری سیاسی قیدی جن میں ڈاکٹر محمد قاسم فکتو،ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، شوکت احمد خان، عبدالغنی گونی، لطیف احمد واجہ، جاوید احمد خان، محمود ٹوپی والا، افتخار مرزا، فیروز احمد،پرویز احمد، طارق احمد، منظور احمد، محمد اسلم وانی ، مظفر احمد ڈار ، محمد ایوب ڈار، محمد ایوب میر، شوکت احمد خان، غلام مرزا، نثارحسین، لطیف احمد وازہ، محمد لطیف بڈگام، وغیرہ قابل ذکرہیں جن کو عمر کی سزائیں دیکر مختلف قید خانوں میں قید کردیا گیا ہے اور ان لوگوں میں بیشتر ایسے قیدی ہیں جن کو اپنے گھروں سے سینکڑوں میل دور جیلوں میں ڈال کر شدید عذاب و عتاب میں مبتلا رکھا گیا ہے اور اسی طرح کئی دوسرے کشمیری سیاسی قیدی جن میں مسرت عالم بٹ، سراج الدین میر، عبدالرشید مغلو، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف فلاحی، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، طارق احمد ڈار، مولانا سرجان برکاتی، اسد اللہ پرے، شوکت حکیم، غلام محمد خان سوپوری، محمد رمضان خان، بلا ل احمد کوٹا، فاروق توحیدی، علی محمد بٹ، محمد یوسف میر، شکیل احمد بٹ، عبدالغنی ، محمد سبحان وانی، اور کئی دوسرے لوگ قابل ذکر ہیں جنہیں بدنام زمانہ قانون PSA کے تحت مختلف جیلوں اور پولیس تھانوں میں مقید رکھا گیا ہے ۔اس کے علاوہ شہر خاص سے تعلق رکھنے والے18 بچے قابل ذکر ہیں جنہیں ڈی ایس پی قتل کیس میں ملوث ٹھہرا کر پس زندان رکھا گیا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ سرکردہ مزاحمتی خاتون رہنما سیدہ آسیہ اندرابی کو اپنے دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے ہمراہ کئی ماہ سے جیل میں مقید رکھ کر زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس طرح سراج الدین میر اور عبدالرشید مغلو کو بھی کالے قانون PSA کے تحت کورٹ بلوال جیل میں جبکہ ایک اور سیاسی رہنما شیخ نذیر احمد کو بھی عمر قید کی سزا کاٹنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔بیان میں حقوق بشر کے عالمی اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ ان کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے کیلئے اپنی ٹیم روانہ کریں اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ان قیدیوں کے تئیں روا رکھے جارہے غیر انسانی سلوک کو فوری طور بند کرے۔

Share This Article