مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل ،بحالی امن کی کنجی: مصطفےٰ کمال

By
9 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
: ڈاکٹر کمال

افسپا کے تحت ہی کشمیر ی نوجوانوں کی نسل کشی کی ابتدا ہوئی

سرینگر:۱۰،جون: / اپوزیشن جماعت نیشنل نے مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کو جموں وکشمیر میں بحالی امن کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افسپا کے تحت ہی کشمیر میں نوجوانوں کی نسل کشی کی ابتدا ہوئی۔پارٹی معاؤن جنرل سیکریٹری ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ریاست کے لوگ ایک بدترین اور تباہ کن دور سے گزر رہے ہیں اور اس کشمیر دشمن سرکار نے کشمیری عوام کو مالی خود مختاری سے بھی محروم کر دیا ۔کے این این کے مطابق نیشنل کانفرنس نے ریاستی عوام کو پہلے ہی( یعنی الیکشن سے پہلے ) آگاہ کیا تھا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی مخلوط سرکار کا اتحاد ریاست کے لئے باعث تباہی اور بربادی کا سبب بن کر ہی رہے گی۔ موجودہ سرکار بدترین کرپٹ سرکار ثابت ہوئی ، اس سرکار نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ، رشوت ستانی عروج پر ، کنبہ پروری ، اقراء پروری منظر عام پر ہے ، کوئی بھی کام باری رقوم ادا کرنے کے بعد ہی حل ہونے کی امید ہوتی ہے ۔ حقداروں اور مستحق لوگوں کی جائز حقوق پر شب خون مارا جارہا ہے ۔ان باتوں کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری اور سابق ریاستی وزیر ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے اپنی رہائش گاہ پر وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ اس سرکار نے جو آر ایس میڈ سرکار ہے اور ناگپور کے آقاؤں کے بے ساکیوں پر کھڑا ہے نے لوگوں کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے کے خاطر جو وعدے کئے تھے وہ سب کے سب سفید جوٹ اور من گھڑت ثابت ہوئے ۔ انہوں نے (قلم دوات ) والوں نے لوگوں سے اس بھروسہ پر ووٹ حاصل کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے لئے پاکستان اور حریت لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرائیں گے ، بجلی گھر واپس لائے جائے گے ، بدلاؤ کازمانہ آئے گا ، نوجوانوں کا سال ہوگا ، ہر گھر کو دو نوکریاں دی جائے گی ۔ خوف ودہشت کا ماحول مٹادیا جائے گا ، لیکن اس کے بدلے گزشتہ چار سالوں سے ان گنت نوجوانوں کی نسل کشی کی گئی اور ایک ہی ماہ میں کولگام میں 66 نوجوانوں کو ابدی نید سلا دیا گیا ۔ ہزاروں ملت کی نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں کو پلٹ گنوں سے آنکھوں کی بصیرت سے محروم کر دیا گیا ۔ بستیوں کی بستیاں فورسز کے ذریعے خاکستر بنا دی گئی اور مرحوم مفتی اور موجودہ خاتوں وزیر اعلیٰ جو مرحوم مفتی صاحب کی بیٹی ہے کے دور میں وادی میں فوجی کمک میں سو فیصدی اضافہ کیا گیا جس کہ وجہ سے ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول چھایا ہوا ہے گویا وادی کشمیر ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کی گئی ۔ کرفیو عام ، بندشیں عام ، لوگوں کو اپنے مال وجان سے غیر محفوظ بنایا دیا گیا اور بدقسمتی سے اب بھی یہ ظالم اور جابر اور فوج کے بل بوتے پر حکومت کرتے ہیں۔ جب کہ انہوں نے عوامی منڈیٹ پہلے ہی کھو دیا ہے ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کشمیری عوام بخوبی واقف ہے کہ مرحوم مفتی سرکار میں ملک میں ریاست جموں وکشمیر رشوت ستانی کے ، کرپشن میں نمبر ۲ پر قرار دی گئی اور مرحوم کے دور میں ہی بد نام زمانہ جنسی سیکنڈل بھی پردہ فاش ہوا جس میں مرحوم مفتی صاحب کے وزراء ایم ایل ایزبھی ملوث پائے گئے لیکن اس کیس کو دبایا گیا ۔ شہر سرینگر کو مرحوم کے دور میں ہی ملک کی گندہ شہر قرار دیا گیا ۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ریاست کے لوگ ایک بدترین اور تباہ کن دور سے گزر رہے ہیں اور اس کشمیر دشمن سرکار نے کشمیری عوام کو مالی خود مختاری سے بھی محروم کر دیا ۔ جی ایس ٹی لگانے سے آج ملک کے باشعور اور ممتاز تاجر اقتصادی معشیت کے تجزیہ نگار وں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ مودی جی کے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی ملک کی تباہی اور بربادی ثابت ہوئی حالانکہ نیشنل کانفرنس نے جی ایس ٹی لگانے کے خلاف پُرزور مہم شروع کی ۔ پریس کانفرنس اور احتجاجی ریلیوں میں نیز ریاستی اسمبلی میں بھی جی ایس ٹی کے نفاذ کے مضر اثرات سے باخبر کیا ، لیکن بدقستمی سے کشمیری عوام کے بدترین دشمن اور اقتدار کے حرص سابقہ ریاستی وزیر خزانہ نے مرکز کی خوشنوی اور اقتدار میں اونچا مقام حاصل کرنے کے لئے کشمیریوں پر اس نقصان دہ قانون ٹھوس دیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی نا اہل سرکار نے بجلی فیس اور راشن فیسوں میں سو گناہ اضافہ کیا یہ سرکار ریاست کے لوگوں کے احساسات اور مفادات کو سودا گھر جماعت ثابت ہوئی ۔ حالانکہ ریاست کو شورش زدہ علاقہ دینے خصوصاً وادی کشمیر کو ڈسٹربڈ ائریا قرار دینا اور ریاست میں بدترین قانون افسپا کا نفاظ کرنا بھی مرحوم مفتی صاحب کی دین ہے جس کے تحت آج کھلے عام میں فوج اس کا غلط استعمال کر کے ہمارے نوجوانوں ، عام شہریوں کی ہلاکتیں کی جارہی ہے ۔ افسپا کے تحت ہی کشمیر میں نوجوانوں کی نسل کشی کی ابتدا ہوئی جب مرحوم مفتی صاحب ہوم منسٹر اور شری جگمہون جی ریاست کے گورنر تھے۔ ڈاکٹر کمال نے ہندوستان او ر پاکستان کے سربراہوں ، وزیر اعظموں اور آر پار کے امن پسند لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو موجودہ مصائب ، ظلم وستم جبر و استبداد سے بچانے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں کو اولین فرست میں میز پر آکر امن بات چیت شروع کر یں اور بغیر کسی تاخیر اور طول مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت شروع کریں تاکہ ریاست میں امن وامان کا فضا لوٹ آسکیں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں ہی ریاست میں پائیہ دار امن واحد ضمانت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی قیادت کو اپنا لچک دار رویہ اپنا کر کشمیریوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں ۔ خاص کر ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی نہروں نے یو این او اور سرینگر کے لالچوک میں کشمیری عوام خصوصاً کشمیریوں کے محسن اور قداور رہنماء مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ کئیں ہے ۔ جس میں اندرونی خود مختاری جو دفعہ 370 اور 35 اے ساتھ آنجہانی مہراجہ ہر سنگھ کے دستاویزی الحاق اہل کشمیر کو حاصل ہوئی ہے اور جس کے تحت ہند کے پارلیمنٹ میں منظور دی اور دہلی ایگریمنٹ ، 1952 پوزیشن واضع ہے لیکن بدقسمتی سے 1953 دہلی میڈ ریاست پر طاقت کے بل بوتے پر ٹھوسے گئے سرکاروں نے جن میں مرحوم بخشی ، صادق ، قاسم صاحب اور خاص کر مفتی محمد سعید شامل ہے کے ذریعے اور جن میں خاص کر مرحوم صادق صاحب قرہ نے آئین کی بے کنی کی اور ریاست کے لوگوں کو آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم کر دیا اب ان کو فوری طور پر واپس کرناکسی بھی صورت میں ہندوستان کے لئے سنہری موقع ہے اور کسی حد تک ریاست میں امن بھی قائم ہوسکتا ہے۔

Share This Article