ہماری آزادی کے حصول کی جدوجہد ہر لحاظ سے قانونی اور جائز جدوجہد :محمد یاسین ملک

By
7 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

کشمیریوں کے حق آزادی کو تسلیم کرنے میں ہی حقیقی امن، استحکام،تعمیرو ترقی کا راز مضمر

سری نگر:۸،جون:/ محمد یاسین ملک نے کہا کہ جموں کشمیر، فسلطین اور دوسری مظلوم اقوام عزت،وقار اور آزادی کے ساتھ جینے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن عالمی برادری ان بنیادی انسانی خواہشات کو بھی نکارنے میں مصروف ہے۔انہوں ہماری آزادی و حق خودرادیت کے حصول کی جدوجہد ہر لحاظ سے قانونی اور جائز جدوجہد ہے اور فوجی طاقت، سیاسی شعبدہ بازی اور دوسرے استعماری حربے استعمال کرکے ہمیں اپنی مبنی بر حق جدوجہد کو چلانے سے روکا نہیں جاسکتا ہے۔محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیریوں کے حق آزادی و حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے میں ہی حقیقی امن، استحکام،تعمیرو ترقی کا راز مضمر ہے۔کے این این کے مطابق جمعۃ الوداع کے موقع چرار شریف میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئیمحمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں افواج اور پولیس انسانوں کا بے دریغ قتل کرنے میں منہمک ہیں اور انسانی برادری اس پرخاموش تماشائی بن کر مشاہدے میں مصروف ہے۔حد یہ ہے کہ بارہا عالمی برادری کشمیریوں کو ہی قتل ہوجانے،اندھا بنائے جانے، زخمی کئے جانے اور تباہی سے دوچار کئے جانے پر مورد الزام ٹھہراتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک اسی طرح فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی صیہونیت بے دردی کے ساتھ گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں اور عالمی برادری خاس طور پر امریکہ قاتلوں کے ہاتھ روکنے کے بجائے اسرائیلی دہشت گردی کے دفاع میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرتے نظر آتے ہیں۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ آج جب کہ مہذب عالمی برادری نے انسانیت، انسانی اخلاقیات،انسانی وقار،آزادی اور انسانی جانوں کے اوپر اپنے تجارتی مفادات، اپنے سیاسی اور فوجی تزویراتی اشتراک کو ترجیح دینا شروع کردیا ہے‘ یہ دنیا انسانوں کے بودوباش کیلئے مذید ابتر جگہ بن گئی ہے نیز پوری دنیا ایک جنگ کا میدان بن چکی ہے جہاں انسانی خون کی ارزانی عام ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر، فلسطین، چیچنیا، شام، یمن، لیبیا ، افغانستان اور دوسرے کئی ممالک اور خطوں کے اندر انسانوں کی جانیں تلف ہورہی ہیں جس کی براہ راست ذمہ دار ی عالمی برادری کے سفاک، افسوس ناک اور غیر انسانی رویے پر ہی ڈالی جاسکتی ہے۔ فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ آج کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر جوانوں کو قتل کیا جارہا ہے لیکن دنیا کے کسی انسان کے کن پر کوئی جوں تک نہیں رینگ رہی ہے نا ہی کوئی دل یا زبان کشمیریوں کے دکھ و درد کو محسوس کرتا نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے فوجی طاقت اور پولیسی جبر کو استعمال کرتے ہوئے ان جوانوں جو کہ پرامن تحریک اور مزاحمت کا حصہ تھے پر مظالم ڈھائے،ان کا ٹارچر کیا،انہیں اور ان کے گھر والوں کی تذلیل و تحقیر کی اور یوں انہیں پشت بہ دیوار لگاکر مسلح جدوجہد کی جانب دھکیل دیا اور اب انہی معصومین کے لہو کی ہولی کھیل کر بھارتی فوجی اور پولیس اور انکے سیاسی آقا قتل و غارت کا جشن منانے میں مصروف ہیں۔بھارتی وزیرداخلہ کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ کتنا بھونڈا مذاق ہے کہ وہ لوگ جو خاص طور پر پچھلے چار برس سے کشمیری جوانوں کو تہہ تیغ کرنے میں مصروف ہیں، جو ہمارے ہزاروں بچوں کی بینائی چھین چکے ہیں،جو ہمارے ہزاروں بچوں کو زخمی کرچکے ہیں اور جنہوں نے ہزاروں کشمیریوں کو زینت زندان بنارکھا ہے ‘ اب ہمیں نئی نسل کو بچانے کی فکر کرنے کے ضمن میں مواعظ دیتے نظر آرہے ہیں۔ کیا ان لوگوں کے اندر کوئی شرم، کوئی حیا اور کوئی انسانی حس باقی نہیں ہے تا کہ انہیں ان جوانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ان کے مستقبل کو تاریک بنانے میں اپنی فورسز ، پولیس اور فوج کا رول دکھائی دے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ۷۰ برس سے زائد عرصے کے دوران بھارتی استعمار اور ناجائز تسلط نے فوجی ،پولیسی او ر فورسزکی طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں خاص طور پر کشمیری جوانوں کے خلاف ایک بدترین تشدد آمیز مہم چھیڑ رکھی ہے ۔ پرامن تحریک اور مزاحمت میں شامل جوانوں کو قید کرنے، ان کا ٹارچر کرنے، ان کے ایام اسیری کو طول بخشنے، ان کے والدین کو تذلیل آمیز سلوک سے دوچار کرنے کے بعد پشت بہ دیوار کیا جاتا رہا ہے۔انہی جوانوں کو بعدازاں سفاک طریقے پر قتل کرنے اور انکی لاشوں پر جشن منانے کا مذموم سلسلہ بھی بھارتی استعمار جاری رکھے ہوئے ہے اور اب یہی قاتل ہمیں نئی نسل کو بچانے کے ضمن میں نصیحتیں دینے میں مصروف ہے جسے مضحکہ خیز اور شرم ناک ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۶ ؁ء کی عوامی ایجی ٹیشن کے بعد سے ابتک بھارتی قابضین نے نہ صرف ہمارے چھ سو سے زائد جوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے بلکہ ہمارے دس ہزار سے زائد معصومین کے آنکھوں کی بینائی بھی چھین لی نیز ہمارے ہزاروں لوگوں کو زخمی کیا یا پھر زندان خانوں کی زینت بنارکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ قتل و غارت اور نسل کشی کا یہ سلسلہ لگاتار جاری ہے اور اس کا واحد مقصد کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو توڑنا اور کشمیریوں کی حق خود اداریت اور آزادی کی آواز کو دبانا ہے۔
Back to Conversion Tool

Share This Article