بھارت کشمیری عوام کو انسانی مخلوق تسلیم کرنے سے قاصر:گیلانی

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Kashmiri separatist leader Syed Ali Shah Geelani

فوج وفورسزکشمیریوں کی پرامن تحریک کو آہنی ہاتھوں کے ساتھ کُچلنے کی راہ پر گامزن

سرینگر:۵جون: / سید علی گیلانی نے فوج وفورسزکی طرف سے ریاست جموں کشمیر میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور عالمی ریڈکراس کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت کے رباب اقتدار ریاستی عوام کی پُرامن تحریک کو آہنی ہاتھوں کے ساتھ کُچلنے کی راہ پر گامزن ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق سید علی گیلانی نے ریاست کے حریت پسند عوام پر ظلم وبربریت میں شدّت لائے جانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاستی عوام کو انسانی مخلوق تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔بیان کے مطابق شوپیان سے آئے ہوئے ایک عوامی وفد کے آہ وزاری پر اپنے گہرے محسوسات اور رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے حریت چیرمین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت کی پولیس انتظامیہ یہاں کے والدین کو اپنے لخت ہائے جگر کے اجسادِ خاکی کو آخری دیدار کرنے کی خاطر واپس لوٹانے سے انکار کررہے ہیں۔ حریت راہنما نے ٹنگڈار میں حال ہی میں شہید کئے گئے نوجوانوں کو پولیس تحویل میں سُپردِ خاک کرنا کئی طرح کے شکوک وشبہات کو جنم دیتے ہیں۔ حریت راہنما نے قابض انتظامیہ کی جانب سے کسی شخص کو قتل کرنے کے بعد خود ہی سپردِ خاک کرنا انسانی حقوق کی مٹی پلید کرنے کے مترادف ہے۔ حریت راہنما نے ٹنگڈار شہداء کے والدین کی طرف سے اپنے عزیزوں کی لاشیں سپرد کرنے کے مطالبے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے پولیس انتظامیہ کے روئیے کو انسانی حقوق، اخلاق اور شرافت کے منافی ایک ظالمانہ کارروائی سے تعبیر کیا۔ حریت راہنما نے قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے بھارت کے جیل انتظامیہ کی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جیل حکام ریاست کے حریت پسند اسیرانِ زندان کے ساتھ تعصب پر مبنی غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ حریت چیرمین نے حریت کے نوجوان راہنما مسرت عالم بٹ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ راہنما کو آج 36ویں بار پی ایس اے کے تحت نظربند رکھا گیا ہے۔ کبھی عدالت کے کمرے سے رہائی پانے کے ساتھ ہی گرفتار کئے گئے اور کبھی جیل خانے سے باہر آتے ہی انٹروگیشن مرکز میں نظربند کیا گیا۔ مسرت عالم بٹ کے خلاف آج تک کوئی ایسی کیس ڈائیری پیش نہیں کی گئی جس میں اُن کے خلاف درج کئے گئے ایف آئی آرکا سارا ریکارڈ موجود ہو۔ حریت راہنما نے کہا مسرت صاحب کے خلاف ہر رہائی کے بعد کوئی نہ کوئی فردِ جرم پیش کرنا بھارت کے قانونی اور عدالتی نظام کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ حریت راہنما نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جموں کشمیر کے حریت پسندوں کے خلاف بھارت کی کوئی بھی عدالت انصاف دینے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کررہی ہیں۔ حریت راہنما نے کہا کہ انصاف کے اعلیٰ ایوانوں کی افادیت اور تقدس کا یہ لازمی فریضہ ہے کہ مظلوم افرود کو سیاسی انتقام گیری کے بجائے اُس کے ساتھ انصاف کیا جانا چاہیے۔ حریت راہنما نے تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی کی مسلسل خانہ نظربندی کے علاوہ حریت پسند راہنما آسیہ اندرابی اور اُن کے ساتھ وابستہ دیگر ارکان کی فرضی الزامات کے تحت گرفتاریوں کو طول دینے کی انتقام گیر کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حق خودارادیت کا مطالبہ ہمارا پیدائشی حق ہے۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے جس کی پاداش میں گرفتاریوں کے چکر کو جاری وساری رکھا جائے۔ حریت راہنما نے امید ظاہر کی کہ بھارت کے پاس ہمارے جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی اور اوپشن موجود نہیں ہے۔

Share This Article