القاعدہ کی سعودی ولی عہد کو ’گناہوں بھرے‘ منصوبوں پر دھمکی

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman attends the Future Investment Initiative (FII) conference in Riyadh, on October 24, 2017. The Crown Prince pledged a "moderate, open" Saudi Arabia, breaking with ultra-conservative clerics in favour of an image catering to foreign investors and Saudi youth. "We are returning to what we were before -- a country of moderate Islam that is open to all religions and to the world," he said at the economic forum in Riyadh. / AFP PHOTO / FAYEZ NURELDINE

سرینگر؍02؍جون؍ جے کے این ایس ؍ : القاعدہ (جزیرہ نما عرب) نے سعودی عرب میں جاری اب تک کی سب سے نمایاں اصلاحات کے نفاذ پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو خبردار کرتے ہوئے ان کے منصوبوں کو ’گناہوں بھرے منصوبے‘ قرار دے دیا۔جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کے قدامت پسند معاشرے میں اصلاحات کا ایک سلسلہ جاری ہے جس میں سینماؤں کا قیام اور خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔جہادی تنظیموں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی امریکی تنظیم سائٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق یمن سے تعلق رکھنے والے عسکری گروپ نے ’مدد نیوز بلیٹن‘ میں کہا ہے کہ محمد بن سلمان کے دور میں مسجدوں کو مووی تھیٹرز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد نے مذہبی پیشواؤں کی کتابوں کو مشرق و مغرب کے ملحدین اور لادین لوگوں کی لکھی خرافات سے تبدیل کردیا اور بدعنوانی اور اخلاقی زوال کا راستہ کھول دیا۔اپنے بیان میں القاعدہ (جزیرہ نما عرب) نے ماہِ اپریل میں سعودی ساحلی شہر جدہ میں ہونے والے ریسلنگ کے ایونٹ کو شدید تنفید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم مرد اور خواتین کی موجودگی میں غیر مسلم ریسلرز نے اپنے پوشیدہ اعضاء4 کی نمائش کی جن میں سے بیشتر ریسلرز صلیب کا نشان بنائے ہوئے تھے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فسادیوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ہر رات موسیقی کے پروگرامز کا اعلان ہوتا ہے، اس کے ساتھ فلموں کی نمائش اور سرکس کے شو بھی جاری ہیں‘۔واضح رہے کہ القاعدہ (جزیرہ نما عرب) جنوبی یمن میں طویل عرصے سے امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بن رہی ہے کیونکہ امریکا اسے انتہا پسند تنظیموں میں سب سے زیادہ خطرناک گروہ قرار دیتا ہے۔یاد رہے کہ یمن میں جاری تنازع میں اب تک 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ کروڑوں لوگ قحط کا شکار ہیں، اقوامِ متحدہ یمن کی صورتحال کو بدترین انسانی بحران قرار دے چکی ہے۔اس سلسلے میں سعودی عرب اور اتحادیوں نے یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری جنگ میں مداخلت کی جس کے باعث یمن کے صدر عبد ربواہ منصور ہادی 2015 سے جلاوطن ہیں۔بچوں کو قتل اور معذور کیے جانے پر مذکورہ عسکری گروپ کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔خیال رہے کہ حوثی باغیوں کا 2014 سے یمن کے دارلحکومت صنعا پر قبضہ ہے ، ان باغیوں کے مبینہ طور پر ایران سے روابط ہیں، جبکہ ان کی جانب سے بھی شہریوں کی حفاظت کی خلاف ورزی اور اقلیتوں اور ذرائع ابلاغ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

Share This Article