2جون کو ہڑتال اور احتجاج کیا جائے :مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

شہری ہلاکتیں ، اسرائیلی طرز کی منصوبہ بندی

سرینگر:۳۰،مئی:/ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے شہری ہلاکتوں اور مبینہ فورسز زیادتیوں کے خلاف 2جون بروز سنیچروار کو ہڑتال کی کال دی ہے ۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے حریت پسندوں کے رہائشی مکانوں کو مسمار کرنے اورمیوہ باغات کو نقصان پہنچانے کا عمل تشویشناک رُخ اختیار کرچکا ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق متحدہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی،میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے عام شہریوں کو جاں بحق کرنے کی کارروائیوں میںآئے روز اضافہ ہونے ،کاکہ پورہ پلوامہ کے بلال احمد گنائی کو فورسز کی طرف سے جاں بحق کرنے، جامع مسجد سرینگر اور دیگر مذہبی مقامات کے گردونواح میں تسلسل سے فوجی جماؤ سے خوف وہراس قائم کرکے مذہبی امورات میں مداخلت بے جا، شوپیان میں عسکریت پسند کمانڈر زینت الاسلام کے باغ ثمردار کی بے دریغ کٹائی اور ان کے رہائشی مکان کوتباہ وبرباد کرنے اور مال وجائیداد کو لوٹنے، مجاہدین کے مقبروں کی بے حُرمتی اور قیدیوں کی ریاست اور ریاست سے باہر کی جیلوں میں جسمانی تشدد اور غیر انسانی سلوک جیسے سانحات کو اسرائیلی طرز کی منصوبہ بندی سے تعبیر کرتے ہوئے ان شرمناک اور ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف مورخہ 2جون بروز سنیچر ریاست گیر ہڑتال کے ذریعے اپنا پُرامن احتجاج درج کرنے کے لیے حریت پسند عوام سے دردمندانہ اپیل کی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے بھارتی افواج اور انتظامیہ کی طرف سے حریت پسندوں کے رہائشی مکانوں کو مسمار کرنے اورمیوہ باغات کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بدترین قسم کی سامراجیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی افواج کو عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم ہوسکتا ہے، لیکن ان کے گھروالوں کو بھی جنگی کارروائیوں کا ہدف بنادینا نہ صرف جنگی قوانین کی خلاف ورزی، بلکہ انتہائی بزدلی کا مظاہرہ ہے۔ عام لوگوں کے مال وجان کو افواج کے ہاتھوں تلف کئے جانے، عام شہریوں کو قتل کرنے اور مذہبی معاملات میں مداخلت بے جا کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ پوری قوم کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے اور ان چنگیزی کارروائیوں کے خلاف منظم اور صف آراء ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ مزاحمتی قیادت نے ریاست کی حکمران جماعت کی طرف سے اپنے پیشرو حکمرانوں کے اخوانی کلچر کو ختم کرنے کے دعویٰ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ریاست کی پوری پولیس انتظامیہ کو اپنے عوام کے خلاف ظلم وجبر اور قتل وغارت گری کے ہتھکنڈوں کو عملانے کے لیے بروئے کار لایاجارہا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ کی طرف سے سابق اخوانی دور میں عوام پر ڈھائے جارہے مظالم پر مگر مچھ کے آنسو بہانے کو ڈرامہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ان کی زیرِ قیادت یونیفائڈ کمانڈ عام لوگوں کے میوہ باغات کو کاٹ رہے ہیں، معصوم شہریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا گراف آسمان کو چھورہا ہے، لیکن نام نہاد وزیر اعلیٰ خاموش تماشائی بنے ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ قائدین نے مجاہدین کے مقابر کو اکھاڑنے اور ان پر لگے ہوئے کتبوں کی توڑ پھوڑ کرنے کی بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انسانی سماج میں مرنے والیکے جسد خاکی کا تقدس اور احترام لازم سمجھا جاتا ہے، لیکن بھارتی قابض افواج جموں کشمیر کی سرزمین پر ان تمام اخلاقی، انسانی، روحانی اور مذہبی اقدار کی بے حرمتی کرنے کی مرتکب ہورہی ہے۔مزاحمتی قیادت نے قیدیوں کی حالتِ زار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ان کوNIAاور دیگر ایجنسیوں کی طرف سے فرضی الزامات کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ان کی مدتِ اسیری کو طول دینے کے لیے کالے قانون پی ایس اے کا بے دریغ استعمال کرکے ان کی رہائی کو ناممکن بنایا جارہا ہے، جو سراسر لاقانونیت کی انتہا ہے۔ قائدین نے اپنے بیان میں کہا کہ ان قیدیوں کو جیلوں میں تنگ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ خوف وہراس کا شکار بنایا جارہا ہے اور ان کو طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا جارہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے قابض انتظامیہ کی طرف سے ریاستی عوام کو پشت بہ دیوار کئے جانے کو انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ساتھ وابستہ مہذب اقوام عالم کو بھارت کی سرکاری دہشت گردی کے کالے کرت کا جائزہ لینے کے لیے سوگن شوپیان میں زینت الاسلام کے تلف شدہ میوہ باغات کے علاوہ دیگر انسانی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کا از خود مشاہدہ کرنے کے لیے اپنا ایک نمائندہ وفد نامزد کرنا چاہیے اور ان خلاف ورزیوں کا سنگین نوٹس لیتے ہوئے بھارت کی قابض افواج اور انتظامیہ کی سرکاری غنڈہ گردی اور دہشت گردی پر روک لگانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا چاہیے۔

Share This Article