مغربی پاکستان کے رفوجیوں کو ریاست کی مستقل شہریت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں: جموں وکشمیر حکومت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں: جموں وکشمیر حکومت نے کہا کہ جموں میں مقیم مغربی پاکستان کے رفوجیوں کو ریاست کی مستقل شہریت دینے کا فی الوقت کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔


ریاست میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف و بازآبادکاری کے وزیر جاوید مصطفی میر نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی رکن گگن بھگت کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا ’1947 کے پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے تارکین وطن اور 1965 و 1971 کے چھمب کے تارکین وطن کے برعکس مغربی پاکستان کے رفوجیوں کو ریاست کی مستقل شہریت نہیں دی گئی ہے‘۔


انہوں نے کہا ’ انہیں ریاست کی شہریت دینے کا فی الوقت کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ہے‘۔ وزیر موصوف نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ حکومت ہندوستان نے پاکستان زیر قبضہ کشمیر اور چھمب کے 36 ہزار 384 تارکین وطن کنبوں کی یک وقتی بازآبادکاری کے لئے 2 ہزار کروڑ روپے منظور کئے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے