سرحدی کشیدگی برقرار ،شبانہ آتشی گولہ باری میں ایک شہری ہلاک ،تعداد12تک پہنچ گئی

fencing constructed along the indo - pakistan border - fao chris

جموں :صوبہ جموں میں سرحدوں پر آگ اُگلنے کا سلسلہ جاری ہے ۔برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان کئی سیکٹروں میں شبانہ آتشی گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری کشیدگی اور تناﺅ نے جنگ جیسی صورتحال اختیار کی ہوئی ہے ۔آر پار سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگ ترک سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔تازہ فائرنگ اور گولہ باری میں ایک شہری ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق ہند پاک افواج کے درمیان فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور دو دیگر شدید زخمی ہوئے ۔حد متارکہ سے لیکر بین الاقوامی سرحد تک طرفین کے مابین ہورہی گولہ باری کے باعث اب تک اِس پار مرنے والوں کی تعداد12تک پہنچ گئی ہے جبکہ آر پار ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد22ہوگئی جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہےں ۔

تفصیلات کے مطابق دو سگے بھائی رام داس باوا اور گوپال داس باوا ساکنہ کنا چک اُس وقت شدید زخمی ہوئے جب ایک ماٹر گولہ اُن کے گھر پر جا گرا ۔دونوں زخمیوں کو جموں اسپتال منتقل کیا ،جہاں گوپال داس باوا زخمیوں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا جبکہ رام داس کی حالت نازک بنی ہوئی ۔

اطلاعات کے مطابق ایک خاتون بملا دیوی زوجہ بوا دتلا ساکنہ کنا چک آہنی ریزوں کی زد میں آکر زخمی ہوئی ،زخمی خاتون جموں اسپتال میں زیر علاج ہے۔یاد رہے کہ جمعرات کو صوبہ جموں کے پانچ اضلاع میں آر پار فائرنگ وشلنگ شروع ہوئی جو وقفے وقفے سے ہنوز جاری ہے۔اس قبل سات شہری اور پانچ فورسز اہلکار آر پار فائرنگ اورماٹر شلنگ سے ہلاک ہوئے ۔

معلوم ہوا ہے کہ اتوار کو دن بھر سرحدوں پر سکوت رہنے کے بعد پرگوال ،مڈ ،آر ایس پورہ ،ارنیہ اور رام گڑھ کے سیکٹر وں میں اتوار کی شب آر پار آتشی گولہ باری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا،

بی ایس ایف ترجمان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سر حد پر پاکستانی فوج نے شدید فائرنگ اور 120ایم ایم ماٹر گولے داغ کر بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں اور دیہی علاقوں کو نشانہ بنایا ۔ان کا کہناتھا کہ سرحد سے آتشی گولہ کی زد میں پرگوال ،مڈ ،آر ایس پورہ ،ارنیہ اور رام گڑھ کے سیکٹر آئے۔ان کا کہناتھا پاکستانی فوج نے رات ساڑھے بجے اِن سیکٹروں میں گولہ باری شروع کی جو5بجکر45منٹ پر بند ہوا ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرحدی علاقوںمیں پانچ کلو میٹر کے حدود میں تاحکم ثانی تمام تعلیمی ادارے بند کئے گئے ہیں ۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اٹھائے گئے ۔اس دوران سرحدی علاقوں میں پیدا شدہ جنگی صورتحال کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں رہائش پذ یر لوگ ترک سکو نت اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں ۔a

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے