جموں، 20جنوری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کی اپوزیشن جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے جموں خطہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر جاری گولہ باری کے نتیجے میں ہوئی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہفتہ کو یہاں قانون ساز اسمبلی میں شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ اپوزیشن اراکین نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ایوان میں موجود حکمران جماعت بی جے پی کے اراکین نے پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن اراکین نے بعدازاں ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ ہفتہ کی صبح جوں ہی اسمبلی میں معمول کی کاروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور سرحدوں پر جاری گولہ باری کے نتیجے میں ہوئی شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کے دوران بی جے پی پر ڈرامہ بازی اور سرحدی دیہاتیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہونے کا الزام عائد کیا۔ نیشنل کانفرنس ممبران نے وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے بیان جس میں انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی وکالت کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا‘ کے خلاف احتجاج کیا۔ نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا تھا کہ سرحدوں پر جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لئے ہند پاک بات چیت ناگزیر ہے۔ این سی کے سینئر لیڈر و جنرل سکریٹری نے ایوان کو بتایا ’ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جو کچھ کہا ہے وہ قابل مذمت ہے‘۔ انہوں نے بی جے پی سے مخاطب ہوکر کہا ’کیا ہم ملک مخالف ہیں؟ آپ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں‘۔ این سی اور کانگریس کے اراکین نے ’بی جے پی سرکار ہائے ہائے، پی ڈی پی سرکار ہائے ہائے اور آر ایس ایس سرکار ہائے ہائے‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے کہا ’آپ کا 56 انچ کا سینہ کہاں ہے؟‘۔ اس دوران بی جے پی کے اراکین نے پاکستان مخالف نعرے بازی شروع کردی جس پر اپوزیشن نے کہا ’آپ صرف نعرے لگانا جانتے ہیں‘۔ پی ڈی پی کے اراکین اپوزیشن کو یہ کہتے ہوئے منانے میں مصروف نظر آئے کہ حکومت کی طرف سے معاملے پر ایک تفصیلی بیان دیا جائے گا۔ ریلیف کے وزیر جاوید مصطفی میر نے ایوان کو بتایا کہ ’ایک جامع رپورٹ تیار کی جارہی ہے جس کو ایوان میں پیش کیا جائے گا‘۔ تاہم جب اپوزیشن نے اپنا احتجاج جاری کھا تو قانون و پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ ’حکومت نے معاملے پر اپنا بیان دیا ہے‘۔ اپوزیشن کے اراکین نے نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا۔

