موجودہ حکومت شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں:عمر عبداللہ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:پی ڈی پی بھاجپا مخلوط سرکار پر چوٹ کرتے ہوئے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اورحزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے اسمبلی میںلیڈرعمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر سرکار شہری ہلاکتوں کو کوئی مسئلہ نہیں مانتی ہے تواس کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔

عمر عبداللہ نے حکومت پر ہر محاذ پر ناکام ہونے کا الزام عائد کیا اورسرکار کے اس دعوے کو مضحہ خیز قرار دیا کہ ریاست کے حالات قابو میں ہیں۔ کھڈونی ہلاکت کو لیکر اسمبلی میں زبردست ہنگامے ، نعرے بازی اور واک آﺅٹ کے بعد سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کی۔

انہوں نے کھڈونی کولگام میں22سالہ نوجوان کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا۔انہوں نے زور دیکر کہا”کل ایک شخص مارا گیا جس نے بندوق نہیں اٹھارکھی تھی ، اس کے گلے میں گولی لگی تھی ، یہاں تک کہ ایک وزیر نے بھی اس کی تصدیق کی ، کیا گولیاں زمین پر یا ہوا میں چلائی جارہی ہیں؟ہم وزیر اعلیٰ سے یہی پوچھنا چاہتے تھے“۔

عمر عبداللہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور حکومت میں بھی اس طرح کی ہلاکتیں ہوئیں اور وہ اس کا درد بخوبی سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا”آج اس ہلاکت پر ہم نے حکومت سے طلب کیا ، ہم چاہتے تھے کہ اخبارات میں پڑھنے کے بجائے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اسمبلی میں آکر وہی بیان دیں، لیکن وہ نہیں آئیں، جب ہم یہ معاملہ اٹھاچکے تھے تو وہ بعد میں نمودار ہوئیں، اس سے ظاہر ہے کہ وہ ایوان کے تئیں کتنی غیر سنجیدہ ہیں“۔حزب اختلاف کے لیڈر نے مزید بتایا کہ سرکار کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز نظر آرہا ہے کہ ریاست کے حالات قابو میں ہیں ۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے گورنر کے خطبے پر وزیر اعلیٰ کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کی حفاظتی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوگئی ہے۔عمرعبداللہ نے کہا”کل ہوم شالی بگ حلقے میں ایک نوجوان کی موت ہوئی اور ہم اس پر سرکار کا جواب چاہتے تھے ، ہم یہ چاہتے تھے کہ وزیر اعلیٰ جو نہ صرف داخلی امور کی وزیر بلکہ یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کی سربراہ بھی ہیں، ایوان میں آکر جواب دیں“۔

اپوزیشن لیڈر کے مطابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو معاملے کی سنگینی کا خیال کرتے ہوئے سرکار کا موقف واضح کرنا چاہئے،عجیب بات یہ ہے کہ حکومت کی قیادت ایک ایسی خاتون کررہی ہیں جس کی سیاسی بنیاد مکمل طور انسانی حقوق کی پامالیوں اور فورسز کے ہاتھوں زیادتیوں کو اُجاگر کرنے پر مبنی ہے،آج انہوں نے یو ٹرن لیا ہے“۔انہوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا”اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ شہری ہلاکتیں کوئی مسئلہ نہیں تو اسے اقتدار میں رہنے کی کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہے“۔

ان کا کہناتھا”ہم نے ریاست کی سیکورٹی صورتحال پر علیحدہ بحث کرانے پر زور دیا تھا اور اس مقصد کےلئے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران نے تحریک التواءبھی پیش کی تھی ، انہوں نے اس سے انکار کیا۔ کے ایم این

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے