جنگ بندی پر عمل کے باوجود بھی سرحد پار سے ہتھیار وں کی سمگلنگ جاری

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/24جون: چیف آف ڈیفنس بپت راوت نے کہا ہے کہ سرحد پار سے بھارتی حدود میں ہتھیاروں کو بھیجنے کی کارروائی جاری ہے جو پڑوسی ملک ڈرونوں کی دراندازی کے ذریعے استعمال کرتا ہے اور یہ دونوںممالک کے درمیان امن کیلئے صحیح نہیں ہے کیوں کہ اس طرح کی حرکات سے ایک بار پھر امن متاثر ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے کیلئے اس لئے تیار ہوا تھا کیوںکہ اس کا ڈیفنس سسٹم کافی حد تک متاثر ہوا تھا۔ کرنٹ نیو ز آف انڈیا کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایل او سی پر گزشتہ کئی ماہ سے جنگ بندی لاگو ہے۔ جنگ بندی کا یہ فیصلہ باہمی اتفاق سے کیا گیا ، لیکن اس کے باوجود ہندوستان کے اندر ہتھیار بھیجنے کی ناپاک کوششیں جاری ہیں۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت نے کہا کہ ایل او سی پر جنگ بندی لاگو ہے جو ایک مثبت بات ہے ، لیکن ٹھیک اسی وقت میں ہم ہتھیاروں کی دراندازی بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ دراندازی ڈرون کا استعمال کرکے کی جارہی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان امن کیلئے صحیح نہیں ہے ، کیونکہ اس سے امن عمل متاثر ہوتا ہے۔بپن راوت نے کہا کہ اگر امن متاثر ہوتا ہے تو ہم پھر یہ نہیں کہہ پائیں گے کہ جنگ بندی معاہدہ صحیح طریقہ سے کام کررہا ہے۔ جنگ بندی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سرحد پر امن قائم رہے ، لیکن داخلی حصوں میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی جائے ، ہم چاہتے ہیں کہ پورے جموں و کشمیر خطہ میں امن برقرار رہے۔اس کے علاوہ سی ڈی ایس بپن راوت نے اس بات کا بھی جواب دیا کہ پاکستانی فوج جنگ بندی کیلئے کیوں راضی ہوئی ؟ انہوں نے کہا کہ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں میں بڑی تعداد میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے معاملات ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں چھوٹے ہتھیار نہیں بلکہ ہائی کیلیبر ہتھیاروں کا بھی استعمال ہوا ، جس کی وجہ سے پاکستانی فوج کے ڈیفنس انفراسٹرکچر کو بڑا نقصان ہوا اور ان کے فوجیوں کی موت بھی ہوئی۔

Share This Article