رواں برس اب تک محکمہ سوشل فارسٹری کی جانب سے 6لاکھ 50ہزار پودے لگائے گئے

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر /27مارچ: ماہ جنوبی سے اب تک محکمہ سوشل فارسٹری نے وادی کشمیر میں قریب 6لاکھ 50ہزار پودے لگائے ہیں جبکہ مارچ کے آخر تک 7لاکھ پودے لگانے کا ہدف پورا کیا جائے گا۔محکمہ نے یہ پودے مختلف سرکاری اداروں ، تعلیمی اداروں ، سڑکوں کے کناروں اور باغات کے علاوہ جنگلات میں لگائے ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق محکمہ سوشل فارسٹری کی جانب سے وادی کشمیر میں شجر کاری مہم شدو مدسے جاری ہے اور رواں برس اب تک 6لاکھ 50ہزار سے زائد پودے لگائے ہیں ۔ محکمہ سوشل فارسٹری کے ریجنل ڈائریکٹر کشمیر محراج الدین ملک نے کہا ہے کہ محکمہ کی یہ کوشش رہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں ۔ انہوںنے کہا کہ محکمہ نے وادی کے مختلف سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں ، سرکاری و پرائیویٹ سکولوں، یونیورسٹیوں ، کالجوں کے علاوہ مختلف سرکاری محکموں کے صحنوں میں یہ پودے لگائے ہیں ۔جبکہ شہر و قصبہ جاتی کی سڑکوں کے کناروں اور ریلوے سٹیشنوں پر بھی پودے گائے جارہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ وادی کشمیر میں بڑھتی آلودگی سے بچنے کیلئے پودے لگانا انتہائی ضروری ہے جتنے پودے لگائے جائیں گے ماحولیاتی آلودگی اتنی کم ہوگی ۔ انہوںنے کہا کہ اس کے علاوہ جنگلاتی اراضی ، کاہچرائی میں بھی مختلف اقسام کے پودے لگائے جارہے ہیں ۔ ریجنل ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کے جنگلات کو کافی حد تک نقصان پہنچایا گیا ہے جس کی وجہ سے ماحولیات پر بھی منفی اثر پڑرہا ہے اسلئے ہمیں چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں ۔ انہوںنے سکولی بچوں اور دیگر لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم سے کم ایک پودا لگائیں اور اگر ہر کوئی ایسا کرے گا تو وادی کشمیر میں ہریالی ہی ہریالی ہوگی ۔ریجنل ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس ادارے کو وجود 1982میں لایا گیا جبکہ یہ محکمہ 2004میں مکمل طور پر ڈیپارٹمنٹ کے طور پر مکمل ہوا اور تب سے محکمہ سوشل فارسٹری پودے لگانے کا کام انجام دے رہا ہے ۔ اس دوران انہوںزمینداروں پر زبھی زور دیا ہے کہ وہ اپنی اراضی پر مادہ سفیدے کے درخت لگانے کے بجائے نر سفیدے کے درخت لگائیں ۔ انہوںنے کہا کہ مادہ سفیدے کے درختوں سے روئی نکلتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے ۔

Share This Article