سرینگر/یکم جنوری /لیتھ پورہ فدائین حملہ سال نو کے پہلے روز کچھ گھنٹے جاری رہنے کے بعد تیسرے جنگجو کے جاں بحق ہونے کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچ گیا اور اس طرح مجموعی طور36گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس حملے میں 3 فدائین جنگجوؤں اور5سی آر پی ایف اہلکاروں سمیت8افراد ہلاک ہوئے ۔
حملے کا نشانہ بنائے گئے سی آر پی ایف ٹریننگ سینٹر کی ایک عمارت میں محصور آخری جنگجو کے خلاف جوابی کارروائی کے دوران ڈرون جاسوسی طیارے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی نشانہ بنایا گیا جس کے باعث کئی عمارات کو شدید نقصان پہنچا ۔حملے کے بعد کیمپ کو ممکنہ بارودی مواد سے پاک کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کی گئی جورات دیر گئے تک جاری رہی۔
خودکار اور جدید ہتھیاروں سے لیس3 فدائین جنگجوؤں پر مشتمل ایک دستے نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کے قریب دو بجے لیتھ پورہ اونتی پورہ میں قائم سی آر پی ایف کے ایک ٹریننگ سینٹر پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے پے در پے گرینیڈ داغنے شروع کئے۔ فدائین جنگجواندھیرے کی آڑ میں کیمپ کے عقبی حصے سے اندرداخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں موجود اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے تربیتی مرکز کی عمارات میں پناہ لی ۔جس وقت یہ حملہ کیا گیا ، اُس وقت وہاں موجود بیشتر اہلکار گہری نیند سورہے تھے اور اچانک گولی باری نے کیمپ کے پورے علاقے میں افراتفری مچادی ۔جنگجوؤں نے گولیوں کے ساتھ ساتھ یو بی جی ایل لانچروں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے گرینیڈ شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں نیند میں محو اہلکاروں میں اتھل پتھل مچ گئی.، انہوں نے بھی مختلف عمارات میں پوزیشن سنبھالی اور طرفین کے درمیان گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی۔حملے کے فوراً بعد پولیس، فوج اورسی آر پی ایف کی مزید کمک جائے واردات پر پہنچ گئی اورعلاقے کو چاروں طرف سے محاصرے میں لیکر حملہ آؤروں کے خلاف کارروائی شروع کی۔زوردار دھماکوں کے بیچ طرفین کے مابین شدید نوعیت کی گولی باری اتوار کو دن بھر جاری رہی جس کے نتیجے میں مجموعی طور7افراد ہلاک ہوئے جن میں سی آر پی ایف کے 5اہلکاروں کے ساتھ ساتھ2جنگجو بھی شامل تھے۔
مقامی ذرائع نے کے ا یم ا ین کو بتایا کہ کیمپ کی ایک عمارت میں محصورتیسرا جنگجو فائرنگ کرتا رہا اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے رات بھر جاری رہا۔معلوم ہوا ہے کہ ورہ جنگجو کو عمارت سے باہر نکالنے کیلئے نہ صرف بارودی دھماکے اور مارٹر شیلنگ کی گئی بلکہ جنگجو کو نشانہ بنانے کیلئے ڈرون جاسوسی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا گیا ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر رات بھر علاقے میں گشت کرتے رہے اور فائرنگ کا تبادلہ پیر کو بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد دوپہر قریب سوادوبجے ہیلی کاپٹر کی مدد سے ہی ایک عمارت کو بارودی مواد کا نشانہ بنایا گیا۔بعد میں اس کی میت اسی چار منزلہ عمارت سے برآمد کی گئی جس میں وہ محصور تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اس حملے میں جاں بحق ہوئے دو جنگجو مقامی ہیں جبکہ تیسرے کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ ایسا ایک طویل عرصے کے بعد ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر فدائین طرز کے حملے میں مقامی جنگجوؤں نے حصہ لیا۔معلوم ہوا ہے کہ گولی باری کے نتیجے میں کیمپ کی کئی عمارات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔چنانچہ یہ آپریشن اختتام کو پہنچ گیا، البتہ کیمپ میں ممکنہ طور موجود بارودی مواد کو صاف کرنے کیلئے تلاشی کارروائی شام دیر گئے تک جاری تھی۔کارروائی کے اختتام پر پولیس ، فوج اور سی آر پی ایف کے متعدد سینئر افسران نے تربیتی کیمپ کا دورہ کرکے از خود صورتحال کا جائزہ لیا۔
