سعودی عرب نے جی-20 اجلاس سے پہلے سلجھایا غلط نقشے والا تنازعہ؛ جموں کشمیر اور لداخ کو نقشے میں الگ دکھانے والا بینک نوٹ نے واپس لیا

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/21نومبر/سی این آئی/ سعودی حکومت نے 20 ریال کے اس بینک نوٹ کو واپس لے لیا ہے جس پر ہندستان کا غلط نقشہ چھاپا گیا تھا۔ اس نوٹ میں غیر منقسم جموں وکشمیر اور لداخ کو ہندستان سے الگ دکھایا گیا تھا۔ نوٹ پر چھپے نقشے کو لے کر ہندستان نے سخت اعتراض کیا تھا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق ۔جی۔ 20 اجلاس سے ٹھیک پہلے سعودی عرب نے ہندستان کے غلط نقشے والے تنازعہ کو سلجھا لیا ہے۔ وہاں کی حکومت نے 20 ریال کے اس بینک نوٹ کو واپس لے لیا ہے جس پر ہندستان کا غلط نقشہ چھاپا گیا تھا۔ اس نوٹ میں غیر منقسم جموں وکشمیر اور لداخ ہندستان سے الگ دکھایا گیا تھا۔ نوٹ پر چھپے نقشے کو لے کر ہندستان نے سخت اعتراض کیا تھا۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق، اس متنازعہ نوٹ کو واپس لینے کے علاوہ اس کی چھپائی کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ بتا دیں کہ 28 اکتوبر کو ریاض میں ہندستان کے سفیر اوصاف سعید نے نوٹ پر غلط نقشے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ پچھلے دنوں وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شری واستو نے بھی سعودی حکام کے ساتھ غلط نقشے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ 20 ریال کے اس بینک نوٹ کو جی-20 اجلاس کی یادگار کے طور پر نکالا گیا تھا۔کورونا وائرس وبا کے سائے میں جی۔ 20 ملکوں کے رہنماوں کا چوٹی اجلاس اسی ہفتے سعودی عرب میں ہونے والا ہے اور اس کے اب تک کی روایتی میٹنگوں سے ہٹ کر ہونے کے پورے آثار ہیں۔ یہ میٹنگ ڈیجیٹل طور پر ہو گی اور اس میں دنیا کے دولت مند اور ترقی پذیر ملکوں کے رہنماوں کا جماوڑہ نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ مختلف ملکوں کے حکمرانوں، صدور اور وزرائے اعظم کے درمیان بند کمروں میں ہونے والی میٹنگیں بھی نہیں ہوں گی۔ رہنماوں کے لئے یادگار تصویریں کھنچوانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔

Share This Article