سرینگر:سال 2017کے دوران ریاست جموںوکشمیر میں 203عسکریت پسندوں ، 75سیکورٹی فورسزاور 40عام شہریوں سمیت 318افراد مارے گئے ان خیالات کا اظہار راجیہ سبھا میں امور داخلہ کے وزیر مملکت نے کیا ۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت ہنس راج نے وقفہ سوالات کے دوران ممبروں کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں کہا کہ سال 2017میں ریاست جموںوکشمیر میں 75سیکورٹی فورسز اہلکار، 203عسکریت پسندوں سمیت 318افراد مارے گئے ۔ مرکزی وزیر مملکت نے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 14تک ریاست جموںوکشمیر میں 337عسکری واقعات رونما ہوئے جس دوران 40عام شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ انہوںنے کہاکہ سیکورٹی فورسز نے رواں سال کے دوران ریاست خاص کر وادی کشمیر میں 91جنگجوﺅں کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا ۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت کے مطابق ریاست میں حالات معمول پر آرہے ہیں ، سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل سے ہی رواں برس کے دران دو سے زائد جنگجوﺅں کو جھڑپوں کے دوران مار گرایاگیا ۔ انہوںنے کہاکہ ریاست جموںوکشمیر میں انتہا پسند سوچ کو ختم کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔ ہنس راج کے مطابق مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے امن و امان کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں اور بہت جلد ریاست میں امن و امان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ لوک سبھا میں سوالوں کے جواب میں امور داخلہ کے وزیر مملکت نے کہاکہ عسکریت پسندی کوکچلنے کیلئے ریاست میں آپریشن آل آوٹ شروع کیا جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج برآمد ہوئے ۔ انہوںنے کہاکہ رواں برس کے دوران سنگباری کے واقعات میں بھی غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت کے مطابق ریاست خاص کرو ادی کشمیر کے نوجوان اب مین اسٹریم میں آنا پسند کرتے ہیں۔
