سرینگر//سلامتی کونسل میں یروشلم کے معاملے پر امریکہ کے الگ تھلگ پڑ جانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے اُن تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے تاناشاہی پر مبنی امریکی صدر کے فیصلے کو یکسر اور یک زبان ہوکر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرنپ ایک مسلم دشمن شخصیت کے مالک ہیں اور مسلمانوں کو ان جیسے اسلام مخالف افراد سے کچھ اور توقع رکھنی بھی نہیں چاہئے۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جس طرح سے سلامتی کونسل میں امریکی صدر کی رسوائی ہوئی ہے وہ اُن کیلئے سبق آموز ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت بھی مہذب اقوام اور ممالک کی کمی نہیں اور سلامتی کونسل میں اس بات کا برملا ثبوت دیکھنے کو ملا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور یہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حق تلفی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے اور یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلے سے خطے میں خطرات کا اضافہ ہو گااور کشیدگی مزید پھیل جائے گی۔ڈاکٹر کمال نے کہاکہ امریکی صدر کے اس فیصلے نے خطے میں امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ القدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں پر رسول اکرم اور انبیا کرامؑ نے اپنی عبادات انجام دی ہیں اورجس کی جانب رسول نے 17ماہ تک نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ القدس مسلمانوں کا قبلہ اور تقدس ہے،ا گر کوئی بھی طاقت اسے مسلمانوں سے چھینے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف سختی سے نمٹاجائے گااور یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر سبھی مسلم ایک صف میں ہے۔ انہوںنے کہاکہ وقت آگیاہے کہ مسلمان ایک ہوکر اپنے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک جھٹ ہوجائیں۔

