عدالت عظمیٰ کی سیاسی پارٹیوں کو سخت ہدایت،بدنام اور مجرمانہ ساہ ماضی والے سیاسی امیدواروں کی معلومات منظر عام پرلائیں

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر 13فروری/سی این آئی// سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں سیاسی پارٹیوں کو جمعرات کو ہدایت دی کہ وہ مجرمانہ پس منظر والے امیدواروں کی فہرست اور منتخب ہونے کا سبب اپنی اپنی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کریں۔ جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس ایس روندر بھٹ کی بنچ نے بی جے پی لیڈر اشونی کمار اپادھیائے اور رام بابو شرما کی توہین عدالت کی درخواست پر یہ حکم دیا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں سیاسی پارٹیوں کو جمعرات کو ہدایت دی کہ وہ مجرمانہ پس منظر والے امیدواروں کی فہرست اور منتخب ہونے کا سبب اپنی اپنی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کریں۔ جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس ایس روندر بھٹ کی بنچ نے بی جے پی لیڈر اشونی کمار اپادھیائے اور رام بابو شرما کی توہین عدالت کی درخواست پر یہ حکم دیا۔ عدالت نے ان ہدایات پر عمل نہ کئے جانے پر الیکشن کمیشن کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے خلاف یہ معلومات عدالت کو آگاہ کرائے۔سیاست کے جرائم زدہ ہونے سے روکنے کے لئے عدالت نے سیاسی پارٹیوں کے لئے گائیڈلائن جاری کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ گزشتہ چار عام انتخابات میں سیاست میں جرائم تیزی سے بڑھے ہیں۔ اس کے مطابق، اگر سیاسی پارٹیوں کی طرف سے مجرمانہ پس منظر کے شخص کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو اس کے جرائم کی تفصیلات پارٹی کی ویب سائٹ پر اور سوشل میڈیا پر دینی ہوگی۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ کسی بے داغ کو ٹکٹ کیوں نہیں دیا گیا؟عدالت عظمی نے امیدواروں پر درج فوجداری مقدمات کی معلومات اخبارات، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر بھی نامزدگی کلیئر ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر شائع کرنے کو کہا ہے۔ اگر سیاسی پارٹی ایسا نہیں کرتی ہے تو الیکشن کمیشن اس کی معلومات سپریم کورٹ کو دے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے