خان سوپوری کا چوتھا پبلک سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار، ریاستی ہائی کورٹ نے فوری رہائی کے احکامات صادر کئے

سرینگر/28دسمبر/سی این آئی/ ریاستی ہائی کورٹ نے حریت گ کے برزگ رہنما اورجموں کشمیر پیپلز لیگ کے علیل و محبوس چیئرمین غلام محمد خان سوپوری کی کالے قانون چوتھے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کے احکامات صادر کئے ہے۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق لیگ کے ترجمان اعلیٰ نے کہا ہے کہ ریاستی ہائی کورٹ کے جج جسٹس رشیدعلی ڈار نے پیپلز لیگ چیئرمین غلام محمد خان سوپوری کی پی ایس اے کے تحت نظربندی کے خلاف دائر عرضداشت کی سماعت کی۔ وکلا کے دلائل سننے کے بعد انہوں نے بزرگ رہنماغلام محمد خان سوپوری پر لاگو کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کے احکامات دیئے۔ غلام محمد خان سوپوری کی مقدمے کی پیروی میر شفقت حسین نے کی۔انہوں نے عدالت میں غلام محمد خان سوپوری پر نافذ پی ایس اے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔یاد رہے کہ بزرگ رہنما چیئرمین پیپلز لیگ غلام محمد خان سوپوریکو پولیس کی بھاری جمعیت نے 15فروری 2017 کو سوپور میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ پیپلز لیگ کے شہید اول شہید غلام محمد بلہ کی یاد میں منعقدہ ایک مجلس میں شریک تھے۔پولیس نے گرفتاری کے بعد غلام محمد خان سوپوری پر مسلسل چار مرتبہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے جموں خطے کی کورٹ بلوال ، کٹھوعہ اور بیرون ریاست ہریانہ جیل میں نظربند رکھا۔ حراست کے دوران غلام محمد خان سوپوری کہی جان لیوا امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

Share This Article