پلوامہ قتل عام جیسے واقعات ناقابل قبول /نیشنل کانفرنس

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ،مرکز پر کشمیر میں سخت گیر پالیسی ترک پر زور

سرینگر/17دسمبر: پلوامہ قتل عام جیسے واقعات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے گورنر انتظامیہ کیساتھ ساتھ مرکزی سرکار پر زور دیا ہے کہ کشمیر میں بے گناہوں کے خون ناحق کو روکنے کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات اُٹھانے کے ساتھ ساتھ اس سانحہ میں ملوث اہلکاروں کو نشاندہی کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پلوامہ قتل عام کی جوڈیشل تحقیقات کرائی جائے اور ملوث اہلکاروں کو قرارواقعی سزا دی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تصادم آرائیوں کے مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہونا کوئی نئی بات نہیں اور اس طرح سے لوگوں پر اندھا دھند گولیوں کی برسات اور طاقت کے بے جا استعمال کی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہئے۔ اجلاس میں صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ، شمالی زون صدر محمد اکبرلون، وسطی زون صدر علی محمد ڈار، ضلع صدر اسلام آباد الطاف احمد کلو، ضلع صدر بارہمولہ جاوید احمد ڈاراور ایڈوکیٹ ریاض احمد خان کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ اگرچہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں گذشتہ4سال سے احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کیلئے مختلف قسم کے غیر مہلک ہتھیار متعارف کرنے کے دعوے کرتی آئیں ہیں لیکن زمین سطح پر گولیوں اور پیلٹ گنوں کا بے تحاشہ استعمال لگاتار باقی ہے۔ ایک طرف مرکزی اور ریاستی حکومتیں وادی میں حالات سدھارنے کیلئے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن دوسری جانب قتل عام کا سلسلہ بدستور جاری رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ظلم و تشدد، مار دھارڈ اور بربریت کے چلتے حالات کے سدھار کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی، اُلٹا اس سخت گیر پالیسی سے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اپوزیشن میں ہونے کے باوجود مرکزی قیادت کو بار بار یہ باور کرایا کہ مسئلہ کشمیر اقتصادی یا تعمیراتی پروجیکٹ سے حل ہونے والا نہیں یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کے سیاسی حل کیلئے کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہم نے مرکزی قیادت پر زور دیا کہ خدارا یہ پیلٹ، شلنگ، مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور گن گرج بند کرکے بات چیت کی راہ اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے گذشتہ4سال کے دوران ریاستی حکومت کی طرف سے مرکز کے سامنے ایسی کوئی تجویز نہیں رکھی گئی، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز ی سرکار کوئی فیصلہ لیتی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والے آج واویلا کررہے ہیں لیکن اقتدار میں رہتے ہوئے محبوبہ مفتی نے فورسز کو عوام کیخلاف جنگ کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ بحیثیت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سینکڑوں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر کبھی اُف تک نہیں کی اُلٹا مہلوکین کو ہی ذمہ دار ٹھہرا کر فورسز کو بری الذمہ قرار دیتی رہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناصر اسلم وانی نے سابق ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئر رشید ایک عوامی نمائندے ہیں اور احتجاج کرنا اُن کا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ ایک پُرامن احتجاج کرنے والے عوامی نمائندے ، جس نے آئین ہند پر حلف لیا ہو، کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیلانا جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

Share This Article