نیشنل کانفرنس بغیر کسی بیرونی مدد کے ‘عوام کی عدالت’ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے: ناصرسوگامی

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں وکشمیر میں جاری سیاسی بحران کے درمیان نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر ناصر سگامی نے نیوز 18 کو بتایا کہ ریاست میں انتخابات کے لئے تیاری شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس بغیر کسی بیرونی مدد کے ‘عوام کی عدالت’ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔

نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر سوگامی نے بتایا کہ پی ڈی پی۔ کانگریس-نیشنل کانفرنس کے اتحاد کی طرف سے حکومت بنانے کے دعوے کے بعد اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ جمہوریت کا زوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی سکون سے نہیں بیٹھے گی اور اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے سیاسی انتشار کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور جمہوری نظام کو بچانے کے لئے ہم نے ایک ساتھ آنے کا فیصلہ کیا۔ ہم پی ڈی پی قیادت کے تحت غیر مشروط حمایت دے رہے تھے۔ ریاست میں قانون و امان کی صورت حال بہت خراب ہے اور لوگوں میں ڈر ہے۔ انتقام کی کارروائی کی وجہ سے کوئی بھی کھل کر نہیں بول رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے اسمبلی تحلیل کرنے کی بتائیں یہ اہم وجہیں

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں اور لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا تک مشکل ہو گیا ہے۔ 2014 کے بعد سے صورتحال خراب ہوگئی ہے اور گزشتہ 6 ماہ میں حالات بدتر ہو چکے ہیں۔ اس لئے جمہوریت کو بچانے کے لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا۔

سوگامی نے کہا کہ گورنر کے اس قدم سے جمہوری ڈھانچہ کو نقصان پہنچا ہے۔ محبوبہ مفتی کے مکتوب بھیجنے اور ہماری حمایت کے اعلان کے کچھ دیر بعد ہی انہوں نے اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے ایسا ضرور کسی سیاسی دباو میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ ایک ہفتے سے اس پر بات کر رہے تھے۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس اور کئی آزاد لیڈران اس فیصلہ میں شامل تھے۔ کچھ ہفتوں تک غیر رسمی بات چیت کے بعد ہم اس فیصلہ پر پہنچے۔

Share This Article