پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ۔ این ) کے امیدوار اور پنجاب صوبے کے سابق وزیر ہارون سلطان بخاری نے یہ کہہ کر تنازع پیدا کر دیا ہے کہ خواتین کیلئے ووٹ دیناحرام ہے۔ہارون پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی خاتون امیدوار زہرہ باسط سلطان کے خلاف نیشنل اسمبلی کی این اے 18 سیٹ سے چناؤ لڑ رہے ہیں ۔ زہرہ باسط کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سلطان بخاری کی بھابھی ہیں ۔ سلطان پنجاب میں پی ایم ایل ۔ این حکومت میں سماجی فلاح و بہبود کے وزیر تھے۔
دی نیوز کی خبر کے مطابق اپنے منتخب صوبے میں مظفر گڑھ میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے سلطان بخاری نے کہا کہ وہ مذہب کی ہدایات پر عمل کریں گے۔ کسی بھی خاتون امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ کیونکہ اسے حرام (اسلام میں منع) مانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ‘میں اللہ اور نبی کی ہدایات کے تحت کام کروں گا اور اس کے مخالف کام کرنے سے بچوں گا۔میں اللہ اوررسولؐ کے احکامات کے منافی باتوں پر نہیں چلوں گا”۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ہارون سلطان بخاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ذاتی حیثیت میں دیا گیا ہے، یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پالیسی نہیں ، پارٹی قیادت کی جانب سے اس سلسلہ میں ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

