مسئلہ اجتماع عیدین : (یعنی اگر عید اور جمعہ ایک ہی روز آجائیں تو جمعہ پڑھا جائے گا یا نہیں )

By
12 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

(مفتی)عمر امین الٰہی

حامداً و مصلیاً و مسلماً :
چوں کہ امسال عید الفطر کے جمعہ کے دن آنے کا امکان ہے، اس لیے کئی علاقوں سے علماء کرام و مفتیان عظام کو فون آئے ،جن سے معلوم ہورہا تھاکہ بعض ساتھیوں کو کچھ روایات کی بناء پر ذہن میں خلجان پیدا ہوا ہے کہ آیا اس روز صرف نماز عید پر اکتفاء کیا جائے یا نماز جمعہ کا فریضہ بھی اپنے معتاد طریقہ پر ادا کیا جائے، اس مناسبت سے یہ کچھ سطور تحریر کی جارہی ہیں تاکہ احادیث کا صحیح مطلب بھی واضح ہو اور لوگوں میں پیدا ہوئی خلجانی کیفیت بھی دور ہو۔
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ نبی کریم ﷺ سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ایسے موقعہ پرنماز جمعہ چھوڑ دی ہو، بلکہ نسائی اور ترمذی میں موجود حضرت نعمان بن بشیرؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایسی صورت حال ہوتی (یعنی عید جمعہ کے دن پڑتی) تو آپ ﷺ دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھ لیتے، چنانچہ حضرت نعمان بن بشیرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ عیدین اور جمعہ میں پہلی رکعت میں سبح اسم ربک اور دوسری رکعت میں ہل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے اور کبھی عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہو جاتے تو بھی آپ ﷺ عید اور جمعہ میں ان ہی دونوں سورتوں کو پڑھا کرتے تھے۔(ابو داؤد حدیث نمبر ۱۱۲۴) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ عید کے دن نماز جمعہ ترک نہیں فرماتے تھے۔
دوسری بات یہ جان لیں کہ نماز عید سنت ہے اور نماز جمعہ فرض ہے ، اور شریعت کا اصول ہے کہ فرض کا بدل فرض اور سنت کا بدل سنت ہوگا،نیز یہ بھی مسلمہ و متفقہ اصول ہے کہ بدل کا بدل نہیں ہوا کرتا ہے، جیسے وضوء کا بدل تیمم ہے اور پھر تیمم کا کوئی بدل نہیں ، اگر یہ بات مان لی جائے کہ نماز عید نماز جمعہ کا بدل ہے تو یہ ان دونوں مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے ۔
تیسری بات یہ بھی جان لیں کہ اگر ان روایات کو صحیح بھی تسلیم کیا جائے (حالاں کہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ اگلی سطور سے واضح ہوگا) تو ان میں سقوط و عدم سقوط یعنی نماز جمعہ کے ساقط ہونے یا نہ ہونے کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کو اگرچہ پڑھنے نہ پڑھنے کا اختیار دیا گیا ہے لیکن خود نبی پاک ﷺ نے اس تخییر کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ’’بیشک ہم تو جمعہ پڑھیں گے‘‘۔
ان تین باتوں کو ذہن نشین کرلینے کے بعد یاد رکھیں کہ اس قسم کی چار روایات کتب احادیث میں آئی ہیں:
(۱) پہلی روایت جسے امام ابو داؤد(حدیث نمبر ۱۰۷۲) وغیرہ نے حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے حضرت معاویہؓ نے پوچھا کیا آپ ایسے دن نبی پاک ﷺ کے ساتھ تھے جب دو عیدیں (عید اور جمعہ) جمع ہوگئیں تو انہوں نے فرمایا: ہاں ، حضرت معاویہؓ نے فرمایا : تو نبی ﷺ نے کیا کیا؟ حضرت زیدؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے نماز عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دی اور فرمایا جوپڑھنا چاہئے اسے چاہئے کہ پڑھ لے۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ’’اسرائیل بن یونس‘‘ ہے جسے امام ابن المدینی ؒ ، امام ابن حزمؒ نے ضعیف قرار دیا ہے، اور امام عبد الرحمن بن مہدی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ راوی چور ہے حدیثیں چرایا کرت تھا۔(تہذیب الکمال ۲/۵۲۲ تہذیب التہذیب ۱/۲۶۳)
نیز اس روایت میں ایک دوسرا راوی ’’ایاس بن ابی رملہ شامی‘‘ ہے جسے امام ابن المنذرؒ ، امام ابن القطانؒ ، امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجر ؒ نے مجہول قرار دیا ہے۔(الوہم والایہام ۴/۲۰۴، تہذیب التہذیب ۱/۳۸۸)
(۲)دوسری روایت بھی ابوداؤد وغیرہ میں حضرت ابو ھریرہؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آج کے دن میں تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہوگئیں ہیں ، جوچاہئے تو اسے عید کی نماز کافی ہے اور ہم بے شک جمعہ پڑھیں گے۔
اس روایت میں ایک راوی ’’بقیہ بن ولید‘‘ ہے ، امام بیہقیؒ فرماتے ہیں کہ محدثین نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ بقیہ حجت نہیں ہے۔ (تہذیب التہذیب ۱/۴۷۶)۔ نیز یہ راوی مدلس بھی ہے اور تدلیس تسویہ میں مشہور ہے یعنی اپنے شیخ کے ضعیف شیخ کو چھپاتا بھی ہے اور تحدیث بھی کرتا ہے اور یہ بد ترین تدلیس ہے جو کہ متفقہ طور پر حرام ہے۔
اس روایت میں ایک دوسرا راوی ’’محمد بن مصفی‘‘ بھی ہے جو منکر رواتیں بھی بیان کرتا تھااور تدلیس تسویہ بھی(تہذیب التہذیب ۹/۴۶۱)۔ نیز ابن ماجہ کی سند میں وہ حضرت ابوھریرہؓ کے بجائے حضرت ابن عباسؓ کا تذکرہ کرتا ہے ، نیز اس روایت میں ’’مغیرہ بن مقسم الضبی‘‘ بھی ہے جو مدلس ہے۔(تہذیب التہذیب ۱۰/۲۷۰) اس کی متابعت اگرچہ’’ زیاد البکائی‘‘ کررہا ہے لیکن وہ بھی متکلم فیہ ہے۔
(۳) حضرت ابن عمرؓ کی روایت جسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔(اوپر والی حدیث کے ہم معنی)
اس روایت کو ابن ماجہ نے تنہا روایت کیا ہے، نیز اس میں ایک راوی ’’جبارہ بن المغلس‘‘ ہے جسے امام بخاری ؒ نے مضطرب الحدیث ، امام یحییٰ بن معین ؒ نے کذاب اور امام دارقطنی ؒ نے متروک کہا ہے۔(تہذیب الکمال ۴/۴۹۲، تہذیب التہذیب ۲/۵۸)
(۴) چوتھی روایت ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عطاء بن ابی رباحؒ کا اثر ہے کہ ہمیں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے صرف نماز عید پڑھائی اور نماز جمعہ کے لیے نہیں آئے جبکہ جمعہ کا دن تھا الخ
اس روایت میں ایک راوی ’’اسباط بن نصر‘‘ ہے جو مختلف فیہ ہے امام ابو نعیمؒ ، امام ابوزرعہؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، امام نسائی ؒ نے غیر قوی اور امام ابن معینؒ نے لیس بشئی کہا ہے۔(تہذیب الکمال۲/۵۸،۳۵۹، تہذیب التہذیب ۱/۲۱۲)، نیز اس روایت میں اعمش مدلس بھی ہے اور وہ عنعنہ سے روایت کر رہا ہے۔
اس روایت کے ایک طریق میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے نماز عید کو مؤخر کیا اور خطبہ بھی نماز کے بعد پڑھا ، نیز اس روایت میں یہ بھی نہیں ہے کہ حضرت ابن زبیرؓ نے ظہر کی نماز بھی پڑھی یا نہیں ممکن ہے کہ کسی عذر کی بناء پر ان سے نماز جمعہ ساقط ہوگئی ہو اس لیے انہوں نے گھر ہی میں نماز ظہر ادا کی ہو ۔
اوپر والی تفصیل سے ان چاروں روایتوں کی اسنادی حیثیت تو معلوم ہوگئی کہ یہ ضعیف روایات ہیں البتہ اگر روایات کو مجموعہ کے اعتبار سے قابل استدلال بھی قرار دیا جائے پھر بھی ان سے نماز جمعہ کا ساقط ہوجانا معلوم نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو اختیار دیدیا اور خود فرمایا کہ ہم تو جمعہ ادا کریں گے ، اب یہ اختیار تمام لوگوں کے لیے تھا یا کچھ مخصوص افرا دکے لیے تھا اس کی طرف بخاری شریف کی اس روایت سے روشنی پڑتی ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں بھی یہ صورت حال پیش آئی کہ عید جمعہ کے دن پڑگئی تو حضرت عثمان غنیؓ نے نماز عید کے بعد فرمایا کہ ’’اے لوگو! اس دن میں تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہوگئیں ہیں پس اہل عوالی میں سے جو چاہے نماز جمعہ کا انتظار کرے اور جو چاہئے کہ واپس گھر لوٹے تو ہماری طرف سے اجازت ہے۔ (بخاری شریف ۲/۱۵۸۹ برقم ۵۵۷۲)
اس روایت سے ان چاروں روایات کا مفہوم واضح ہوتا ہے کہ یہ اختیار صرف اہل عوالی (یعنی مدینہ منورہ سے تین چار میل کے فاصلہ پر جو بستیاں تھیں) کے لیے تھا، یعنی جو لوگ دور گاؤں اور دیہات سے آتے تھے ، ان لوگوں کے لیے یہ حکم تھا ، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان حضرات کو واپس لوٹتے شام بھی ہوجاتی اور ان حضرات پر جمعہ فرض بھی نہیں تھا کیوں کہ نماز جمعہ کے لیے ایک شرط’’ شہرہونا‘‘ بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؓ، امام شافعی ؒ ، امام ابن حزمؒ وغیرہم کے پیش نظر بھی یہ احادیث تھیں لیکن ان تمام حضرات نے ایسی صورت حال میں جب کہ عید جمعہ کے دن پڑجائے دونوں نمازوں کو لازم وضروری قرار دیا ہے ، ہم یہاں صرف امام شافعیؒ کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں:
امام شافعی ؒ فرماتے ہیں: جب عید الفطر کا دن جمعہ کا دن ہو تو عید کی نماز امام پڑھائے، جس وقت نماز جائز ہوجاتی ہے، پھر جو شہر والے نہیں ہیں ان کو اجازت دیدے کہ وہ اگر چاہیں اپنے اہل کی طرف واپس چلے جائیں اور جمعہ پڑھنے کے لیے واپس نہ آئیں اور انہیں اختیار ہے کہ وہ جمعہ پڑھنے کے لیے ٹھہرے رہیں یا جانے کے بعد اگر قدرت ہو تو جمعہ پڑھنے کے لیے واپس آجائیں، اور جمعہ ادا کریں ، اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ
نیز فرماتے ہیں: کسی شہری کے لیے جائز نہیں کہ بغیر کسی شدید عذر کے جمعہ ترک کرے اگر چہ عید ہی کا دن کیوں نہ ہو، اسی طرح عید الاضحیٰ کا حکم ہے، کسی اختلاف کے بغیر جب ایسے شہر میں ہو جہاں جمعہ جائز ہوتا ہے اور عید کی نماز پڑھی جاتی ہے، (یعنی جمعہ بھی پڑھے اور عید بھی پڑھے اور گاؤں دیہات والوں کے لیے اختیار ہے)۔ (کتاب الام ۱/۲۳۹)
لہٰذ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاں جہاں نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے وہاں عید کے روز بھی جمعہ ادا کریں ور نہ ترک جمعہ کاوبال پوری بستی پر ہوگا۔اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کو اس عظیم گناہ سے بچائے اور شریعت پر مکمل عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Share This Article