پلوامہ میں فائرنگ ، اننت ناگ میں خوفناک گرینیڈ دھماکہ،اونتی پورہ میں بارودی سرنگ ناکارہ

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

2پولیس اہلکار ہلاک ،11فورسز اہلکار زخمی
رائفلیں اُڑالی گئیں ،مہلوکین کے جنازوں میں ہزاروں شریک ،جذباتی ،رقت آمیز مناظر میں سپرد لحد

پلوامہ ،اننت ناگ ،اونتی پورہ:۱۲،جون:کے این این/ پلوامہ اور اننت ناگ میں فائرنگ اور خوفناک گرینیڈ دھماکے میں 2پویس اہلکار ہلاک اوردیگر 11اہلکارزخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک بنی ہوئی ۔اس دوران مہلوک پولیس اہلکاروں کے جنازوں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اپنے اپنے آبائی علاقوں میں جذباتی ورقت آمیز مناظر میں سپرد لحد کیا گیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ پلوامہ میں ضلع کورٹ کمپلیکس کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ایک چوکی پر جنگجوؤں نے سحری کے وقت ہلاکت خیز اند ھا دھند فائرنگ کی ۔دریں اثناء اونتی پورہ میں ایک بارودی سرنگ ناکارہ بنادی گئی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی کشمیر میں منگلوار کی صبح 2الگ الگ مسلح حملوں میں 2پولیس اہلکار ہلاک اور11دیگر اہلکار زخمی ہوئے ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق جنوبی پلوامہ قصبہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے کورٹ کمپلیکس کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ایک چوکی پر اندھا دھند فائرنگ جسکے نتیجے میں موقعے پر ہی 2اہلکار لقمہ اجل بن گئے جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوا ،جسے سرینگر اسپتال منتقل کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ منگل وار کے روز سحری کے وقت قصبہ پلوامہ میں نامعلوم بندوق بردار نمو دار اور پولیس چوکی پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔معلوم ہوا ہے کہ نامعلوم بندوق برادروں کی فائرنگ کے نتیجہ میں پوراعلاقہ گولیوں کی گن گھرج سے لرز اٹھا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس حملے میں سلیکشن گریڈ کانسٹیبل غلام رسول لون ولد گاگل لولاب کپوارہ بلٹ نمبر292/PUL،سلیکشن گریڈ کانسٹیبل غلام حسن وگیس ساکنہ والیترا رفیع آباد بارہمولہ بلٹ نمبر531/PULہلاک ہوئے جبکہ سلیکشن گریڈ کانسٹیبل منظور احمد ملا ساکنہ شارٹلو رفیع آباد بارہمولہ بلٹ نمبر 254/PULشدید زخمی ہوا ،جسے ضلع اسپتال پلوامہ کے بعد فوجی اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ، تاہم انکی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔پولیس نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسلح جنگجوؤں نے صبح صادق کے وقت کورٹ کمپلیکس کی پولیس چوکی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں مذکورہ دوبالا پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے مہلوک اہلکاروں کا ہتھیار بھی اڑا لیا ہے اور وہ فرار ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اس واقعہ کے فوری بعد پولس،فوج اور دیگر فورسز کی بھاری تعداد نے یہاں پہنچ کر ایک وسیع علاقے کا محاصرہ کرلیا تاہم آخری اطلاعات ملنے تک حملہ آوروں کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل پایا ہے۔اس دوران ڈسٹر کٹ پولیس لائنز میں مہلوک اہلکاروں کے حق میں تعزیت وگلباری تقریب منعقد ہوئی ،جس میں ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ ، آئی جی کشمیر ایس پی پانی سمیت کئی اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی ۔تعزیتی تقریب کے دوران مہلوک اہلکاروں کے تابوتوں پر گلباری کی گئی ۔اس د وران جونہی مہلوک اہلکاروں کی میتیں اپنے اپنے آبائی دیہات پہنچائی گئیں ،تو وہ کہرام اور صف ماتم بچھ گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ مہلوک پولیس اہلکاروں کے جنازوں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جبکہ جذباتی ورقت آمیز مناظر دونوں اہلکاروں کے آبائی قبرستانوں میں سپرد لحد کیا گیا ۔مہلوک اہلکاروں نے اپنے پیچھے دو بیوائیں ،کمسن بچوں اور والدین کو چھوڑ گئے ۔ادھر جنوبی ضلع اننت ناگ کے معروف جنگلات منڈی علاقہ میں نا معلوم جنگجووں نے سی آر پی ایف کی ایک پارٹی کو نشانہ بناکر ہتھ گولہ پھینکا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ذرائع کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم10 اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس کے ایک ترجمان نے اس حملے کی تصدیق کی تاہم بتایا کہ سبھی زخمیوں کی حالات خطرے سے باہر ہے اور انکا علاج جاری ہے۔حملے کے فوراً بعد فوج وفورسز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کیا اور حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی ۔اس دوران اونتی پورہ میں ایک سماعت شکن بارودی سرنگ ناکارہ بنا دی گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکاروں کی ایک گشتی پارٹی نے برلب سڑک ایک مشکوک چیز پائی ۔ذرائع نے بتایا کہ قاضی ناگ کے قریب تعمیراتی کام کیلئے ڈالے گئے پتھروں کے بیچ ایک مشکوک آلہ پایا گیا ،جس کے بعد بم ڈسپوزل اسکارڈ کو طلب کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ مشکوک آلہ کا جائزہ لینے کے بعد بم ڈسپوزل اسکارڈ نے 2.5کلو وزنی بارودی سرنگ پائی ۔بم ڈسپوزل اسکارڈنے کڑی مشقت کے بعد بغیر کسی جائزہ لینے کے بعد ناکارہ بنادی ۔سیکورٹی افسران نے بتایا کہ اگر یہ بارودی سرنگ پھٹ جاتی ،تو بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتی تھی جبکہ جنگجوؤں نے یہ سرنگ فورسز کو نشانہ بنا نے کی غرض سے یہاں نصب کی تھی ۔واضح رہے کہ مرکزی سرکار نے رمضان کے دوران یکطرفہ جنگبندی کا اعلان کیا ہوا ہے۔ تاہم جنگجووں نے اسے زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ رمضان کے دوران وادی کے مختلف علاقوں میں گرینیڈ دھماکے ہوئے ہیں،فورسز پر گولیاں چلی ہیں اور ان فورسز سے ہتھیار چھین لئے جانے کی کئی کامیاب اور ناکام کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ فوج نے بھی ’’جوابی کارروائی‘‘ میں کئی جنگجووں کو جاں بحق کردیا ہے جبکہ سیز فائرکے دوران2عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے ہیں ۔

Share This Article