معصوم طالبات کو گرفتار کرنا ناقابل برداشت : ملک

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

اُنکے والدین کی تذلیل و تحقیر قابلِ مذمت،حکمران اس عمل کو فی الفور روک دیں

سری نگر:۶،جون: / لبریشن فر نٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ بیٹوں کے بدلے والدین کو گرفتار کرنا پولیس کا پرانا وطیرہ رہا ہے لیکن محبوبہ سرکار نے اب لڑکیوں کے بدلے انکے والدین کو گرفتار کرنا اور انکی تذلیل کرنے کا نیا سلسلہ بھی شروع کردیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی دو بہنوں تنفیہ رسول اور سمیرہ رسول کی گرفتاری اور انہیں پولیس لاک اپ میں مقید رکھنا صریح پولیس دہشت گردی ہے۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے بدھ کو اسلام آباد (اننت ناگ ) سے آئے ہوئے ایک عوامی وفد سے ملاقات کی ۔بیان کے مطابق اسلام آباد (اننت ناگ) سے آئے ہوئے اس معزز وفد نے یاسین ملک کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں اس ضلع میں پولیس کی جبر و زیادتیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وفد نے کہا کہ اس ضلع کے سپرانٹنڈنٹ پولیس مسٹر طاہر اشرف بھٹی نے ظلم و جبر اور بے شرمی کی سارے حدیں پھلانگ دی ہیں ۔ اس پولیس آفیسر نے ضلع میں پردہ کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کے خلاف خاص طور پر مہم چھیڑ رکھی ہے ۔ خواتین اور بچیوں کو پولیس تھانوں پر بلا کر اپنے سامنے پیش ہونے پر مجبور کرنا اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے بدلے ان کے والدین کو گرفتار کرنا، انہیں تعذیب و تحقیر آمیز سلوک کا نشانہ بنانا اور انہیں قبیح گالیوں سے نوازنا اس آفیسر کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔وفد نے یاسین صاحب کو بتایا کہ پولیس نے یہاں سے دو جوان سال بہنوں تنفیہ رسول اور سمیرہ رسول کو گرفتار کررکھا ہے اور انہیں تھانہ صدر اسلام آباد میں مقید رکھا گیا ہے جبکہ کئی دوسری باپردہ عفت ماب بچیوں کو بھی حاضر کرنے کیلئے ان کے والدین پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔وفد نے بتایا کہ پولیس کا خاص ہدف کشمیری یونی ورسٹی میں زیر تعلیم باپردہ بچیاں ہیں اور ان کے گھروں پر آئے روز چھاپے ڈال کر ان کے والدین کی تذلیل و تحقیر کی جارہی ہے۔بیان کے مطابق اسلام آباد کی دو بہنوں تنفیہ اور سمیرہ کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے کہا کہ بیٹوں کے بدلے باپ کو گرفتار کرنے کا سلسلہ پرانا پولیسی وطیرہ رہا ہے لیکن محبوبہ مفتی سرکار جو بیٹی بچاؤ کا نعرہ بلند کرتی رہتی ہیں نے اب بیٹیوں کے بدلے ان کے والدین کو گرفتار کرنے اور انکی تذلیل و تحقیر کرنے کا نیا سلسلہ دراز کردیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ محمد یاسین ملک نے خاص طور پر پردہ کرنے والی خواتین اور کشمیری یونیورسٹی میں زیر تعلیم بچیوں پر عتاب نازل کرنے کی پولیسی کاروائی کو صریح پولیس دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جس بے شرم رویے کا مظاہرہ ایس پی موصوف کررہے ہیں وہ انتہائی گھناؤنا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ پولیس کا یہ جابرانہ رویہ ناقابل برداشت ہے اور اگر پولیس نے فی الفور اس قبیح عمل کو نہیں روکا تو کشمیریوں کے پاس اس کے خلاف ایک منظم اور بھرپور ایجی ٹیشن چلانے کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار نہیں ہوگا۔

Share This Article